کراچی،08 اپریل(اے پی پی ):کہتے ہیں کہ کسی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانا ہو تو اسکی تعمیرات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لانے کیلئے تعمیراتی شعبے کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تعمیراتی شعبے کو ایک صنعت کا درجہ دینے اور اس سے وابستہ بڑے اور چھوٹے طبقے کے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تعمیراتی صنعت اپنے ساتھ تقریباً چالیس مزید انڈسٹریز کو چلاتی ہے جس میں کنسٹریکشن میٹریل اور سروسز شامل ہیں جس کی ضروریات اور استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیمنٹ اور اسٹیل کے علاوہ تمام کنسٹرکشن میٹریل اور سروسز پر ٹیکس ہولڈنگ کیساتھ ختم کرنے کا اعلان بھی پیکج میں کیا گیا ہے جسے بلڈرزبرادری ایک اہم اعلان قرار دے رہی ہے۔

کنسٹرکنش ریلیف پیکج میں مزید مراعات بھی دینے کا اعلان کیا گیا ہے جیسا کہ فکسڈ کنسٹریکشن ٹیکس پر اسکوائر فٹ کا نفاظ ،سیلز ٹیکس میں کمی، مکان کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس کی معافی ،انویسٹرسے ذرائع آمدانی کا معلوم نہ کیا جانا ،نیا پاکستان کیلئے 30بلین کی سبسڈی اور اس میں انویسٹمنٹ کرنے والوں کیلئے 10فیصد ٹیکس شامل ہے،جس کے مستقبل قریب میں بہترین اثرات سامنے آئیں گے

اعلان کے بعد بلڈرز ،ریئلٹرز اور مزدور طبقے میں خوشی اور اطمینان پایا جارہا ہے،انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب کے اس اقدام پر وزیر اعظم  کے  بہت شکرگزار ہیں۔

  اے پی پی /کراچی/حامد