اسلام آباد،23 اکتوبر  (اے پی پی ): وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین دارلحکومتوں میں ہوتا ہے مگر اکثر اوقات یہاں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں اس کی خوبصورتی کو ماند کر دیتی ہیں جن میں دھرنے سب سے ذیادہ قابل ذکر ہیں ۔

اسلام آباد میں دھرنوں کی روایت نئی نہیں ، گزشتہ چند برسوں میں کئی بار دھرنے ہوئے ہیں۔ گو کہ ان دھرنوں کے مطالبات و مقاصد مختلف تھے لیکن ان میں مشترک بات عوام کی پریشانی اور معیشت کا نقصان ہے۔

اب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت مخالف آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان  کیا ہے جس سے ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت کی تاجر برادری    میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

اسلام آباد کی سبزی منڈی کا شمار پاکستان کی سب بڑی پھل اور سبزی کی منڈی کے طور پر ہوتا ہے۔ دھرنے کے سبب راستے بند ہونے سے  نہ صرف تاجروں کو مشکلات ہوتی ہیں بلکہ مزدور طبقہ  بھی  بری  طرح متاثر ہوتا ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق منڈی میں ہونے والے یومیہ کاروبار کی حتمیٰ مالیت کے بارے میں توکچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن روزانہ تقریباً ایک ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔یہاں کام کرنے والے دھاڑی داروں  کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے  کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔

دھرنے سے اقتصادی نقصانات تو ہوتے ہی ہیں لیکن ہر بار ہونے والا دھرنا ریاست کی عملداری کو بھی چیلنج کرتا ہے  جو کسی طور بھی معیشت کے لیے سود مند نہیں ہے۔

سورس : وی این ایس ، اسلام آباد

download video