اسلام آباد،11جون  (اے پی پی):آئندہ مالی سال 2021-22ءکا 8487 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے ہے، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ رکھے جانے کی تجویز ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال کے 2704 ارب روپے سے بڑھ کر 3411 ارب روپے رہے گا، گراس محصولات کا حجم 7909 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ 6395 ارب روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے، نان ٹیکس ریونیو میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مجموعی سبسڈیز کا تخمینہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے، احساس پروگرام کے لئے 260 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے، مقامی طور پر بنائی جانے والی 850 سی سی تک کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ اور سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کی جارہی ہے جبکہ اس پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا خاتمہ کرنے کی تجویز ہے، 1.1 ارب ڈالر کی ویکسین درآمد کئے جانے اور جون 2022ءتک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کا ہدف ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-22ءکا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ  پاکستان سنگل ونڈوز پراجیکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ سروسز میں سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی لانے کے لئے صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ٹیکس نظام کو مزید سادہ بنانے کے لئے نیا سادہ ٹیکس ریٹرن فارم اور نئے ٹیکس کوڈ اور قوانین لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے فنانس بل میں شامل تجاویز کے حوالے سے بتایا کہ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت گھریلو صنعت کے سالانہ ٹرن اوور میں اضافہ کی تجویز ہے، اس کے تحت دس ملین روپے تک کی سالانہ ٹرن اوور والی صنعت کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اس سے قبل تین ملین تک ٹرن اوور رکھنے والے چھوٹے کاروبار کو بھی سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیوں کے لئے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان میں فرنیچر کے کاروبار سے منسلک ٹیر ون ریٹیلر دکان کے رقبہ میں دگنا اضافہ، ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے معاوضے کے دائرہ کار میں اضافہ اور واجب الادا سیلز ٹیکس کو ایڈوانس ادائیگی سے استثنیٰ دیئے جانے کی تجویز ہے۔