اسلام آباد، 31اکتوبر(اے پی پی ):  پاکستان میں تقریباً 22.84 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جو حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔بچوں کی بڑی تعداد مارکیٹ میں کام کرتی دکھائی دیتی ہے جو کہ کم عمر ہیں آخر کوئی وجہ ہے کہ ان کے والدین پڑھانے  کے  بجائے ان کو کام پہ بھیجنے پہ مجبور ہیں، یہ بات سماجی کارکن رشاد بخاری نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کی ۔

 سینئر صحافی اعزاز سید کا اس کی وجوہات بارے کہنا تھا کہ اس کی چار بڑی وجوہات ہیں جن میں غربت،بڑھتی ہوئی آبادی،دیہات میں سکولوں کی تعداد کم ہونا اور ماحول ہے۔ پاکستان میں اسکولوں کی کل تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جبکہ سرکاری کالجز کی تعداد تقریبا 728 ہے پاکستان میں بچوں کی تعلیم تک رسائی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سکولوں،کالجوں کی تعداد بہت کم ہے جبکہ تعلیم سے محرومی میں زیادہ تعداد تیسری سے پانچویں جماعت کے بچوں کی ہےاور یہ وہ سٹیج ہے جب بچہ اپنی بنیادی تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے  ۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت احساس پروگرام لائی ہے اگر اس کے نکات پر شفافیت کے ساتھ عمل کیا گیا تو حکومت اس بڑے چیلنج سے نمٹ سکتی ہے ۔

اے پی پی / سعدیہ کمال/حامد

https://vid.app.com.pk/vid/oxyr