اسلام آباد (اے پی پی ویب سائٹ ) کرونا وائرس کی وجہ سے مشکلات اور مسائل سے دوچار ہمارے ملک پاکستان کو آئندہ چند ہفتوں میں ٹڈی دل کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں یہ ٹڈی دل ہماری فصلوں پر حملہ آور ہوگا ان دنوں اس کی ایران کی نوسو کلومیٹر طویل کوسٹل بیلٹ پر افزائش ہورہی ہے اس کے حملے سے ہماری فصلیں شدید متاثر ہوں گی اور غذائی اجناس کی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے, ڈاکٹر محمد اسحاق مستوئی, نیشنل کوآرڈینیٹر پلانٹ پروٹیکشن, پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے ان خیالات کا اظہار ;اے پی پی ویب سائٹ ;سے خصوصی انٹرویو میں کیا,انہوں نے ٹڈی دل کے حملے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ کسانوں اور عام لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے,ٹڈی دل مکئی اور کپاس کی فصل کے موقع پر حملہ آور ہوگی جو ہماری اہم نقدآور فصلیں ہیں ان سے نہ صرف ہماری غذائی ضروریات پوری پوتی ہیں بلکہ درآمدات سے زرمبادلہ بھی حاصل کرتے ہیں. ڈاکٹر محمد اسحاق مستوئی نیشنل کوآرڈینیٹر, پلانٹ پروٹیکشن نے کہا کہ ایران کے علاوہ ہمارے قریبی ممالک مسقط اور یمن وغیرہ میں بھی اسکی افزائش ہورہی ہے کیونکہ ان علاقوں کا موسم ٹڈی دل کی افزائش کے لئے ان دنوں بہت سازگار ہے آنے والے دنوں میں اس کا رخ ہمارے بلوچستان کے ساحلی علاقوں اور تھرپارکر کی طرف ہوگا,اس وقت ہمارے ان علاقوں کا موسم اس کی افزائش میں تیزی کے بہترین ہوگا اور پھر آگے کا سفر کرتے ہوئے بھارت کا رخ کرے گی لیکن اس سے پہلے ہماری فصلوں اور کھیتوں کو شدید نقصان پہنچائے گی اس نقصان سے بچنے کےلئے بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے.انہوں نے کہاکہ مئی جون میں ٹڈی دل پاکستان پرحملہ آور ہوسکتی ہے اس وقت اس کی افزائش ہمارے بعض علاقوں میں بھی ہورہی ہے یہ وہ بچے کھچے ٹڈی دل ہیں جواری کے موسم میں حملہ آور ہوئے کافی مر گئے تھے جو بھارت گئے ان دنوں بلوچستان کے علاوہ ڈی آئی خان, لکی مروت اور پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں اس کے اثرات موجود ہیں اور اس کی افزائش سے اس میں اضافہ ہو سکتاہے. انہوں نے کہاکہ ٹڈی دل سے تحفظ ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج ہے چونکہ یہ کم آبادی اور صحرائی علاقوں میں تیزی سے اپنی تعداد میں اضافہ کرتاہے اس لئے ایسے علاقوں میں رہنے والے افراد کی ذمہ داری ہے کہ جب اس کی آمد کا علم فوری طور متعلقہ سرکاری حکام کو اس کی اطلاع دیں تاکہ فوری طور پر اس کے تدارک اور خاتمے کیلئے اقدامات کئے جاسکیں. ڈاکٹر محمد اسحاق مستوئی نےکہا کہ ہمارے ملک میں ہونےوالی غیر روایتی بارشوں کی وجہ سے گندم کی تیاری اور اس کی کٹائی میں تاخیر ہوئی ہے دوسری جانب ان بارشوں کی وجہ سے ٹڈی دل کے لئے موسم سازگار ہوا ہے. ڈاکٹر محمد اسحاق مستوئی نے کہا کہ بلاشبہ کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا اور ہمارے لئے بھی چیلنج ہے لیکن اس کی جانب توجہ سے ٹڈی دل کی ممکنہ تباہ کاری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا, متعلقہ حکام اور ادارے خاص طور پر اس چیلنج سے نمٹنے کےلئے ابھی سے تیاری کریں ورنہ اس کے شدید حملے سے ہماری فصلیں شدید متاثر ہوں گی اور تباہ ہوجائیں گی .