اسلام آباد،4جون  (اے پی پی):وزیرمملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پرچی چیئرمین کی  ملکی معیشت سے متعلق جھوٹی باتیں  عوام کو گمراہ نہیں کرسکتیں ، جن کو آئی ایم ایف کے قرضوں کا درد ہے وہ سوئس بینکوں میں پڑے پیسے واپس لے آئیں، کل کے اتحادی آج کے دشمن بن چکے ہیں ، ماضی میں این ار او لینے والے آج پھر این ار او کے متلاشی ہیں ،کسی کو این آر او نہیں ملے گا ،بلاول بتائیں کہ سندھ حکومت نے اب تک کتنی ویکسین کی خوراکیں خریدیں ہیں ،  پاکستان کی معیشت ترقی کررہی ہے، تمام اشاریئے مثبت آرہے ہیں، تمام تر چینلجز کے باوجود ہماری معیشت ترقی کر رہی ہے ۔

 وہ جمعہ کو وزارت اطلاعات و نشریات میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ ہمیں کوویڈ، ٹڈی دل حملے اور پی ڈی ایم کی بلیک میلنگ کا سامنا رہا اس کے باوجود معاشی ترقی ریکارڈ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ میں 13فیصد اضافہ ، تاریخ میں پہلی مرتبہ ایکسپورٹس اور ترسیلات زر سمیت 55بلین ڈالر کا انفلو پاکستان  میں آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ لارج سکیل منیو فیکچرنگ میں 9فیصد ،گاڑیوں کی فروخت میں 54فیصد، ٹیکس کی وصولی 4170ارب روپے  ، ساڑھے 11فیصد فیڈرل ایکسائز میں اضافہ ہوا ہے ،پاکستان نے تاریخ میں ریکارڈ ریفنڈ216ارب روپے  واپس کیا گیا ہے ،کرنٹ اکائونٹ خسارہ 19.2ملا تھا 800ارب ڈالر سرپلس ہے ، اگر قرض کی قسطیں واپس نہ کرنا پڑی تو حکومت کی آمدن اخراجات سے زیادہ ہیں ۔

 فرخ حبیب نے کہا کہ زرعی ترقی ، کسان خوشحال ، کسان کو 1100ارب  روپے اضا فی   گیا ہے جس میں گندم کے کسان کو 500ارب  روپے ملے ہیں جس کی وجہ سے گندم کی مجموعی پیداوار 27.3ملین ٹن ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی بات کرنے والے بتائیں ان کے والد آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئے تھے ، انھیں اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،پیپلز پارٹی دور میں بیرونی قرضوں میں 32فیصد  اضافہ ہوا ،  ڈالر 62روپے سے 95روپے پر لے گئے تھے ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور ہر جانب کرپشن کی بہاریں تھیں ۔

 وزیر مملکت  نے کہا کہ سندھ  کے  غریب کی بات کرنے والے 13سالوں سے سندھ میں حکومت کررہے ہیں ،غربت کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں ، 14ارب  روپے کی گندم چوری ہوتی ہے تو وہ چوہوں کا نام لگاتے ہیں ۔ آپ کی حکومت میں نیب پلی بارگین کرنے والے سینکڑوں ملازمین دوبارہ اپنی سیٹوں پربراجمان  ہیں  ۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایمز کی بات کرنے والے بتائیں کہ مظفر ٹپی ، عاصم حسین کہاں  ہیں  ، آپ کے ہاں معیار یہ تھا کہ جو جتنی کرپشن کرے گا اسے اتنا بڑے عہدہ ملے گا ،آج سے پہلے کرپشن کا موضوع ہی نہیں تھا ، اپنا مک مکا کر کے این آر او لینے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے اندر اندھیر نگری ، چوپٹ راج ہے ، 19مئی کو بدین میں براہ راست کینال کو کنکشن دیئے گئے ،سکھر کینال سے کوٹری کے لئے پانی چھوڑاجاتا ہے تو آدھا چوری ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شماریات بیورو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں سب سے ذیادہ مہنگائی کراچی میں ہے ۔

 وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ احساس پروگرام میں ساڑھے 55ارب  روپے جو کہ 31فیصد ہے وہ سندھ میں دیئے گئے ہیں ،ہم نے شفافیت کی بنیاد رکھی اور ساڑھے 8لاکھ لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالا ، پیپلز پارٹی بتائے کہ ایسا کون سا ادارہ ہے جو انھوں نے ٹھیک کیا ،سٹیل مل ، پی آئی اے سمیت تمام اداروں کو تبادہ کیا گیا ، پیپلز پارٹی کی مہارت لوٹ مار ،منی لانڈرنگ اور ہیرا پھیری میں ہے ، معیشت کو درست کرنا ،اصلاحات لانا اور عوام کو ریلیف دینا عمران خان کا کام ہے جو وہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول صاحب ، آپ تو پرچی چیئرمین  ہیں  کون سی جدوجہد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سستے گھروں کے لئے ایک ماحول دیا ہے ،70ارب کی گھروں کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 22ارب کے قرضوں کی منظوری ہوچکی ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ سندھ کے عام آدمی کو ہیلتھ کارڈ کب دے رہے ہیں، لاڑکانہ کی ترقی کے حوالے سے عدالت کے ریمارکس تھے کہ سات گھر تو ڈائن بھی چھوڑدیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 9ملین اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کے کیوں مخالف ہیں ،عدالت عظمی کا فیصلہ ہے ان کے لئے جو قانون لانا پڑا ،لائیں گے ،الیکٹرانک ووٹ مشین کو دیکھ تو لیں ، پتھر کے زمانے کی باتیں چھوڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول ہائوس کی دیواریں ، جعلی اکائونٹس ،منی لانڈرنگ بڑھتی جارہی ہے، سندھ کو کسی قسم کی ترقی نہیں ہورہی ،جتنی چیخ و پکار کر لیں این آر او نہیں ملے گا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غریب آدمی کو بھی فائدہ ہوگا اور ملک بھی ترقی کریگا ،عمران خان کئی ماہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا ، پیٹرولیم لیوی میں تاریخ میں سب سے ذیادہ کمی کی ہے ، بوجھ حکومت خود برداشت کررہی ہے ،عمران خان کی قیادت میں ڈیمز اور سستی بجلی بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔