بورے والا، 20 جولائی  (اے پی پی ):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین  ایم  این اے ،سید ساجد مہدی سلیم نے کہا ہے کہ پنجاب میں نئے اضلاع بنانے کے حکومتی فیصلہ میں بورے والا کو  ترجیحی   بنیادوں  پر  شامل   کیا جانا چاہیے  کیونکہ جن تحصیلوں کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا جارہا ہے ان سب کے مقابلہ میں بورے والا ہر لحاظ سے بڑی تحصیل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر قومی  خبر  رساں  ایجنسی  “اے پی پی” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں  نے  کہا کہ  پنجاب بھر کی تحصیلوں میں بورے والا تعلیم،سپورٹس،کاروباری اعتبار اور سب سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کے حوالہ سے  یہ  تحصیل نمبر ون ہے، اس شہر میں زرعی یونیورسٹی کیمپس موجود ہے، 56 ایکڑ رقبہ پر گورنمنٹ   ٹیکنالوجی کالج، گورنمنٹ  پوسٹ  گریجویٹ کالج فار بوائز  اینڈ گرلز  ،بڑے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے،زرعی آلات بنانے کی سب سے بڑی انڈسٹری،ایشیاء کی بڑی ٹیکسٹائل ملز،میونسپل کارپوریشن،زرعی پیداوار اورپنجاب کی سب سے بڑی تحصیل بار کے علاوہ موٹر سائیکل رکشہ جو آج ملک بھر کے لاکھوں خاندانوں کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہے اس بورے والا کی ہی ایجاد ہے ،اس لحاظ سے نئے اضلاع بنانے میں بورے والا تحصیل کو کسی صورت نظر انداز نہ کیا جائے ۔

انہوں نے  مطالبہ   کیا کہ حکومت  نئے اضلاع  قائم کرنے  کے حوالہ سے ایک کمیٹی قائم کردے جو بورے والا کے حوالہ سے ضلع کا درجہ حاصل کرنے کی اہلیت کے بارے اپنی رپورٹ بھی  حکومت کو پیش کرے، بورے والا کو ضلع بنا کر ماچھیوال اور گگومنڈی کو اسکی تحصیلیں بنا دیا جائے تو یہ ضلع ناصرف اس علاقہ بلکہ پنجاب اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے  مزید کہا کہ  یہ 10 لاکھ سے زائد عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے حکومت کو چاہیئے کہ عوام کی امنگوں کے مطابق اس کو ضلع بنا کر عوام کی ترجمانی کرے۔

وی  این ایس،  بورے  والا