اسلام آباد ، یکم مارچ (اے پی پی):حکومت پنجاب کے ترجمان عثمان سعید بسرا نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کو سیاسی دباﺅ سے پاک کر دیا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی ڈی پی او، سی پی او وزیر اعلیٰ پنجاب کی مرضی سے نہیں لگایا گیا، ڈالفن سمیت پولیس کے تمام شعبوں کی تربیت جدید خطوط پر کی جا رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان موسمی تغیر پر سب سے زیادہ کام کرنے والے دنیا کے پانچ وژنری وزرائے اعظموں کی صف میں شامل ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی خبر رساں ادارہ” اے پی پی” کے دورہ اور خصوصی پینل انٹرویو کے دوران کیا۔ عثمان سعید بسرا نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے 23 دسمبر کو نواز شریف کی ضمانت کی مدت پوری ہونے کے بعد مسلسل تین اجلاس کئے اور نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان اور رہنما عطاءاﷲ تارڑ کو بھرپور موقع دیا کہ وہ ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ، پلیٹ لیٹس کی تازہ ترین صورتحال اور دل کے عارضہ سے متعلق رپورٹ پیش کریں لیکن وہ مسلسل ناکام رہے، اسی بنیاد پر پنجاب کی کابینہ نے اجتماعی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ضمانت میں توسیع کی بنیاد کھو چکے ہیں اور انہیں مزید ضمانت دینے کا جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس حوالہ سے فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اور اگر عدالت سے ان کی ضمانت کی توسیع کی درخواست مسترد ہوتی ہے تو انٹرپول سمیت وہ تمام قانونی راستے اختیار کئے جائیں گے جو کسی عدالتی مفرور کو واپس لانے کے لئے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔

عثمان سعید بسرا نے کہا کہ اشیاءخوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے مارکیٹ کمیٹیوں کے سربراہ مقرر کر دیئے گئے ہیں اور اشیاءخوردونوش کی قیمتوں اور آٹے اور چینی کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ مافیاز اور مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، مارکیٹ کمیٹیوں کے سربراہان کو خصوصی ٹاسک سونپا گیا ہے جس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آٹا بحران میں سٹے بازی ملوث تھی اور منظم طریقہ سے میڈیا کو استعمال کیا گیا اور سٹہ مافیا، ذخیرہ اندوز اور سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرکے اس مصنوعی بحران کو ختم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ کلیکٹر سطح کے کسٹم افسران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی اورگندم کی سمگلنگ میں ملوث کلیکٹرز کو گھر بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ گندم سپلائی اور گندم ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار سے بھی ناواقف ہیں انہوں نے بھی آٹا بحران کو لے کر تبصرے کئے۔

ترجمان حکومت پنجاب نے کہا کہ ہم نے ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے تاکہ زراعت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بہترین پیداوار کا حصول ممکن بنایا جا سکے اور پہلی مرتبہ ہم نے 300 ارب روپے کی سبسڈی کاشتکاروں کیلئے رکھی ہے جس سے بیجوں اور کھادوں پر رعایت دی گئی ہے اور کھیت سے منڈی تک راہداری کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منڈیوں میں اجارہ داریوں کو ختم کرنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی ہے اور فلور ملز مالکان کو کوٹہ کے مطابق گندم استعمال کرنے کا پابند بنانے کیلئے قانون سازی لا رہے ہیں تاکہ کوٹہ کے مطابق گندم حاصل کرنے کے بعد ملز مالکان اس کو بلیک میں فروخت نہ کر سکیں، اس قانون سازی کے ذریعے گندم کے اجارہ دار مافیاز اور کوٹہ کے تحت گندم حاصل کرکے مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنے جیسے غیر قانونی دھندوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان سعید بسرا نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ پولیس کو سیاسی دباﺅ سے آزاد کیا ہے، وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کو کہا ہے کہ جب ہم آپ پر کوئی سیاسی دباﺅ نہیں ڈال رہے تو پھر پولیس کو نتائج دینا چاہئیں، پہلی مرتبہ تاجی کھوکھر جیسے مافیاز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انہیں پکڑ کر جیل میں ڈالے گا، وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سردارعثمان بزدار پولیس نظام میں اصلاحات لانے اور اسے بہترفورس بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے کلین اینڈ گرین پاکستان کی بات کی ہے اور ان کا نام موسمی تغیر کیلئے سب سے زیادہ کام کرنے والے دنیا کے پانچ وزرائے اعظموں میں شامل ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی جرائد کر رہے ہیں۔ عثمان سعید بسرا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے اس وژن کے تحت10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ پر کام کر رہے ہیں، وزیراعظم نے موسم بہار کی شجرکاری مہم کا آغاز کندیاں کے جنگلات میں پودا لگا کے کر دیا ہے اور مختلف اضلاع مین شجر کاری زورو شور سے جاری ہے۔

انہوں نے گوجرانوالہ کے ضلع میں ڈی پی او کی طرف سے ماحولیاتی آلودگی کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 400 غیر قانونی بھٹیاں سربمہر نہیں کیں بلکہ مسمار کر دیں اوراس مسئلہ سے نمٹنے اورآنے والی نسلوں کو صحتمند ماحول منتقل کرنے کے لئے اسی جذبہ کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس پر بھرپور کام ہو رہا ہے حکومت نے زینب الرٹ بل منظور کیا ہے اسے اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے اور عوام الناس کو آگاہی کرنے کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے اور جہاں یہ واقعات ہوئے تھے ان علاقوں قصور اور چونیاں کو سیف سٹی میں شامل کر لیا گیا ہے، بچوں سے بھیک مانگنے کی نفی کی جا رہی ہے اور ایسے بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں معاشرہ کا مفید شہری بنانے کیلئے بحالی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

عثمان سعید بسرا نے کہا کہ ماضی میں صرف لاہور کو پنجاب تصور کیا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت پورے پنجاب پر توجہ دے رہی ہے، جنوبی پنجاب کیلئے صرف سماجی تحفظ پروگرام کے تحت 500 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 33 فیصد بجٹ جنوبی پنجاب کیلئے پہلی مرتبہ رکھا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ بجٹ عوامی منصوبوں پر خرچ ہو، بجٹ فافضل ہونے کی صورت میں جواب طلبی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف منصوبوں کے تحت 78 فیصد بجٹ خرچ کر چکے ہیں باقی ماندہ اگلی ششماہی میں خرچ کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ بڑھایا نہیں لیکن کارکردگی بہتر بنا کر فضول خرچی پر قابو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اساتذہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے لئے 6 سے 7 ارب روپے سالانہ رشوت لی جاتی تھی لیکن ہم نے ای۔ٹرانسفر سسٹم متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت اساتذہ بغیر کسی رشوت کے اپنے قریبی سکولوں میں کام کر سکیں گے جس سے تعلیمی کارکردگی اور معیار بہتر ہورہا ہے، پرائمری سکولوں میں انفراسٹرکچر کو بہتر کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی اس حوالہ سے کوششوں کی بھی تعریف کی۔

سورس: وی  این ایس،  اسلام آباد