وفاقی وزیر اطلاعات  نے ٹرین حادثہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 7 جون کی علی الصبح ڈھرکی اور ریتی کے مقام پر ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے بعد ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس کے درمیان تصادم ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ 3 بجکر 43 منٹ پر سکھر کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوئی کہ ملت ایکسپریس مذکورہ مقام پر ڈی ریل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد سرسید ایکسپریس بھی اسی وقت 3 بجکر 38 منٹ پر متاثرہ بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کے نتیجہ میں ملت ایکسپریس کی 6 بوگیاں ڈی ریل ہوئیں اور 5 بوگیاں الٹ گئیں، سرسید ایکسپریس کی 2 بوگیاں ڈی ریل ہوئیں اور 3 بوگیاں الٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایس، ڈپٹی ڈی ایس، ڈی سی او، ڈی ایم ای اور اے ٹی او جائے حادثہ پہنچ گئے تھے۔ وفاقی وزیر ریلوے خصوصی طیارے کے ذریعے صبح 9 بجے جائے حادثہ پر پہنچے۔ 31 افراد حادثہ میں جاں بحق ہوئے اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ واقعہ کی انکوائری سے قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک طویل عرصہ سے ریلوے کے نظام میں سرمایہ کاری نہیں ہوئی، 74 سال کے بعد ہم نے ایم ایل ون منصوبے کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج رونما ہونے والا حادثہ افسوسناک ہے