لاہور،22 ستمبر(اے پی پی ): چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے کہا   ہے کہ صوبہ پنجاب  میں  گزشتہ 6ماہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی  کے 50واقعات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے پاس رپورٹ ہوئے، 30 لاوارث بچوں کو اولاد کے ضرورت مند افراد کو گود دیا گیا، ادارہ پنجاب کے 8 اضلاع میں 1000 سے زائد بچوں کو غذائی ضروریات، طبی، تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان ڈور اور آﺅٹ ڈور شرگرمیوں  کی سہولت بھی فراہم کر رہا ہے، بیورو میں موجود لڑکوں کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم بھی تیارکی جارہی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئر پرسن سارہ احمد نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں آگاہی مہم کے پروگرام سمیت متعدد نئے پروجیکٹس شروع کئے گئے ہیں، اس سلسلے میں ایک ہیلپ لائن 1121 بھی متعارف کروائی گئی ہے،انہوں نے بتایا کہ زیادہ کیسز دیہی علاقوں سے آتے ہیں جہاں پر لوگ کم تعلیم یافتہ ہیں ،ہمیں اپنی ہیلپ لائن پر کال آتی ہے اور ہماری ٹیم فوری اس جگہ پر پہنچ کر بچوں کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس کی مدد سے کارروائی کا آغاز کر دیتی ہے،انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت آئندہ 2 سا لوں میں مثبت نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے، علاوہ ازیں بیورونے لاپتہ بچوں کو ان کے گھر والوں کے پاس پہنچانے کے لئے بھی ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے جس میں ہماری ٹیم بچے کے گھر والوں کو ڈھونڈ کر بچے کو ان کے حوالے کرتی ہے۔

سارہ احمد نے کہا کہ ہم نے مئی کے مہینے میں 600 سے زائد بچوں کو اپنی تحویل میں لیا جن کوچائلڈ پرو ٹیکشن کورٹ میں پیش کرنے کے بعد ان کے والدین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ بیوروکے مرکزی دفتر لاہور میں بحالی مرکزبھی قائم کیا گیاہے جہاں پر نشے کے عاد ی بچوں کا علاج کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں آنے والے بیشتر بچے ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہوتے اور کچھ جرائم یافتہ بھی ہوتے ہیں، ہماری ٹیم ان کے ساتھ کونسلنگ کرکے ان کو معاشرے کا بہتر فرد بنانے میں مدد دیتی ہے۔

چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار پنجاب میں پولیس اہلکاروں کو بھی چائلڈابیوزکے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا آغاز کیا گیاہے، اب تک ایک ماہ میں 200 پولیس اہلکاروں کو ٹریننگ فراہم کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک بچہ ریسکیوکرتے ہیں اس کے بعد ہم اسے قانونی مدد بھی دیتے ہیں اور جب وہ واپس اپنے والدین تک پہنچ جائے تو کچھ عرصہ تک اس کے بارے میں چیک بھی رکھتے ہیں ،وہ بچے جن کے ساتھ کوئی حادثہ ہوچکا ہوتا ہے انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے ،ہم ایسے بچوں کو اپنے سینٹر میں رکھتے ہیں اور میڈیکل کی تمام سہولیات کے علاوہ نفسیاتی ماہر کی زیر نگرانی ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے تاکہ وہ صحت مند زندگی کی طرف واپس آسکے ،جب ہمیں لگتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہے اور اسکے والدین واپس لیجانے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور وہ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ اسے واپس اس ماحول میں نہیں لے جائیں گے جہا ں وہ ان مسائل کا شکار ہوا ہے پھر ہم انہیں والدین کے حوالے کرنے کے بعد ان کا فا لو اپ بھی رکھتے ہیں۔

سار احمد نے مزید کہا کہ ہم نے ایسے ریسکیو کئے گئے30 لا وارث بچوں کو گزشتہ 6ماہ میں اولاد کے ضرورت مند افراد کو بھی گود دیا ہے یہ سپردداری چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ذریعے ہوتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب انہوں نے بتایا کہ گداگری کے خلاف مہم میں پکڑے گئے بچوں کی کونسلنگ کے بعد ان کے والدین کو بچے کورٹ کے ذریعے واپس دیے جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ ان سے یہ کام نہیں کروائیں گے اور ان کو اس بات کا پابند کرنے کے لیے کورٹ 10ہزار سے ایک لاکھ روپے تک سزاکے طور پر انہیں جرمانہ تنبیہ کرتاہے ،بیورو کے تحت ہم والدین کو یہ آفر دیتے ہیں کہ وہ بچہ ہمیں دے دے ہم اس کے تمام اخراجات پورے کریں گے،انہوں نے بتایا کہ بیورو میں موجود بچوں کو بہترین ناشتہ، دوپہر کا کھانا، رات کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور ہر لحاظ ان کی غذائی ضروریات پوری کی جاتی ہیں ،بیورو میں ان کے لیے طبی سہولیات کا بھی مکمل انتظام ہے،ان کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

وی این ایس، لاہور