چترال،  29 اگست(اے  پی پی ):حالیہ  شدید  بارشوں  کے   باعث   سیلاب   نے  ریشن  کا نقشہ   بدل  ڈالا ہے ، سیلاب کی وجہ سے مین شاہراہ پر حال ہی میں  کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے  والا  RCC پُل ،  ایک ہی ریلے میں بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے  زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جبکہ  پل ٹوٹنے کی وجہ سے بروغل تہوار بھی 12 ستمبر تک ملتوی کر دیا   گیا  ہے ۔

مقامی رضاکار نالے پر عارضی  طور پر لکڑی رکھ کر  رسی کی مدد سے  لوگوں کو  آر پار عبور کراتے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے  چئیر لفٹ  بھی نصب  کی  ہے  جس میں وہ  بچے، خواتین اور ضعیف العمر افراد کو  دریا عبور کراتے  ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے متعدد مکانات، زیر کاشت زمین،  پھل دار باغات اور کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ    آبنوشی کی سکیم ختم   ہونے سے علاقے  میں  پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو  گئی  ہے ۔ چند  مخیر حضرات ان متاثرین میں مفت کھانا تقسیم کررہے ہیں  جبکہ چترال سکاوئٹس کے ٹینکرز کی  مدد سے  متاثرہ لوگوں کو پانی فراہم کیا  جا  رہا ہے ۔

صوبائی محکمہPEDO  کا 200 کے وی پن بجلی گھر بھی  سیلاب کی وجہ سے تباہ  ہو  چکا  ہے ، جس کی وجہ سے علاقے کے لوگ تاریکی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

متاثرہ لوگوں نے  حکومتی اداروں سے مطالبہ  کیا ہے  کہ اس خوبصورت علاقے کو بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے ریشن گول نالے کے دونوں جانب مضبوط حفاظتی دیواریں بنائی جائیں  تاکہ یہ لوگ محفوظ رہ کر سکھ کا سانس لیں  جبکہ  حالیہ سیلاب سے  تمام تباہ شدہ منصوبوں کو جلد از جلد دوبارہ تعمیر اور بحال  کیا جائے ۔