چترال،15 اکتوبر(اے پی پی):قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات  کی شرح میں کمی لانے کے عالمی دن کی مناسبت سے جامعہ  چترال میں مختلف آگاہی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

شجرکاری کے ذریعے قدرتی آفات میں نقصانات کی کمی کی آگاہی کے سلسلے میں وزیرا عظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات ملک امین اسلم نے یونیورسٹی کے  لان میں پودا لگایا اور چترال بھر کے طول وعرض میں شجر کاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

اس سلسلے میں گلوف ۲ پراجیکٹ  کے مالی تعاون سے ایک  سیمینار بھی جامعہ چترال کے  ہال میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈیزاسٹر عبد الولی خان تھے جبکہ سیمینار کی صدارت گلوف ۲ پراجیکٹ کے ڈایریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے کی۔

پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ تعمیرات کیلئے جامع منصوبہ وضع کریں، جس میں چترال کے ماحول کے مطابق ایسےمیٹریل کے استعمال کی اجازت دی جائے جو زلزلے یا سیلاب کی شکل میں زیادہ جانی نقصان کا باعث  نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ بازار میں جو پلاسٹک تھیلے ملتے ہیں ان پر  بھی پابندی لگنی چاہئے اور اس کی جگہ کپڑے کے تھیلے استعمال کیے جائیں۔

سیمینار سے مختلف ماہرین نے خطاب کیا اور بتایا کہ چترال ریڈ زون میں شامل ہے جہاں ہر وقت بڑے پیمانے کے زلزلے کا خطرہ رہتا ہے،  اسی طرح موسمیاتی تبدیلی سے صدیوں پرانے برفانی تودے بھی پھٹ رہے ہیں جس سے تباہ کن سیلاب آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گولین میں دو مرتبہ گلیشیر پھٹنے سے سیلاب آیا، اسی طرح  وادی یارخون  میں پہلی بار برفانی تودہ پھٹا جس سے تباہ کن سیلاب کی زد میں آکر ایک موت ہوئی اور 26 مکانات بھی تباہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ گلوف ۲  پراجیکٹ میں  مختلف اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کیا جاتا ہے جس میں مختلف وادیوں کی کیس سٹڈی تیاری کی جا رہی ہے اور ان علاقوں کو قدرتی آفات کی شکل میں نقصان سے بچانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔

سیمینار سے خطاب میں ماہرین نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ بھی ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ حکومت اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتی۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برفانی تودوں، جھیلوں اور پانی کے ذخائر کے  پاس گندگی نہیں پھینکنی چاہیے  تاکہ ان گندگی سے ان گلیشئر کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی سے یہ گلیشئر نہایت تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سیلاب کی صورت میں تباہی کا باعث  بنتے ہیں۔

 سیمینار سے خطاب میں گلوف ٹو پراجیکٹ کے ترجمان نے کہا کہ اس منصوبے میں ایسے خطرناک علاقوں  اور وادیوں کا سروے بھی کیا جائے گا جہاں گلیشیر پھٹنے کا خطرہ ہو اور ان وادیوں میں آس پاس کی آبادی کو بچانے کیلئے مختلف حفاظتی تدابیر اپنائے جائیں گے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے اور نقصان کی شرح کو کم سے کم کرنے کیلئے ریسکیو1122 کے عملے نے عملی مظاہرہ بھی کیا، جس سے یونیورسٹی کے طلباء وطالبات نے بہت کچھ سیکھا۔

ان  تقریبات میں کثیر تعداد میں چترال یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے بھی شرکت کی۔