اسلام آباد، 07 اکتوبر (اے پی پی ): ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے سرخرو کیا ۔ میں نے کوئی دھاندلی نہیں کی تھی۔ باون ہزار ووٹ ووٹ ایسے تھے جن کے انگوٹھے کے نشانات صحیح  نہیں تھے۔ میگنیٹک سیاہی نہیں تھی ان پر عام سیاہی استعمال کی گئی تھی۔ مگر ان کے شناختی کارڈز نمبرز بالکل صحیح  تھے۔ تو آج سپریم کورٹ نے مجھے بحال کر دیا میں خدا کا شکر گزار ہوں، اب سپریم کورٹ میں  ہے۔

الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے حوالے سے اے پی پی  سے گفتگو کرتے ہوئے قاسم خان سوری نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں   کہ الیکشن  2018 کے دوران  پورے  ملک  میں میگنیٹک سیاہی کا استعمال نہیں کیا گیا  اور ہمارے لوگ ساٹھ سال سے اگر اوپر ہوں تو ان کے بھی انگوٹھے کے نشانات صیح نہیں آتے، زیادہ سیاہی لگ جائے تو بھی صحیح نشانات نہیں آتے۔ اس میں ذکر تھا کہ باون ہزار ووٹوں کی سیاہی صحیح  نہیں تھی۔ میرے ووٹ پچیس ہزار نو سو اناسی ووٹ تھے ، جو لوگ کہ رہے تھے کہ باون ہزار بوگس ووٹ تھے وہ بنیادی طور پر بوگس ووٹ نہیں تھے۔ اس کی صرف انگوٹھے کے نشانات غیر واضح تھے مگر ان کے شناختی کارڈ درست  تھے۔ اسی کو بنیاد بنا کر الیکشن ٹریبیونل نے مجھے ڈی سیٹ کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری کوئی خدشات نہیں ہیں عدالت میں کیس ہے عدالت کے معزز جسٹس صاحبان نے مجھے بحال کیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے سرخرو کرے گا۔

اے پی پی/صائمہ /قرۃالعین