اسلام آباد،08 نومبر (اے پی پی):حکومت پاکستان کی جانب سے کرتار پور راہداری کا منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے ۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے کرتار پور میں اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ سال گزارے اور یہیں وفات پائی۔

گزشتہ سال پاکستان دورے کے دوران سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے کرتار پور کے حوالے سے حکومت پاکستان سے خصوصی گزارشات پیش کیں جسے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت پاکستان نے قبول کیا۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے راہداری منصوبے کا افتتاح کیا اور اور ساتھ ہی منصوبے پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا۔ چار ایکڑ اراضی پر مشتمل دربار اور گرودوارے کو بڑھا کر چار سو چوالیس ایکڑ اراضی تک بڑھایا گیا۔ بارڈر سے ساڑھے چار کلومیٹر طویل سڑک بشمول ایک کلومیٹر طویل دریا ئے راوی کا پُل بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ باسٹھ ایکڑ اراضی پرمشتمل کھیتی صاحب، درشن ڈیوڑھی کی نئی عمارت ، کھوہ صاحب اور “سر اوور ” صاحب بھی منصوبے میں شامل ہیں۔  لنگر خانے کو توسیع دیکر اڑھائی ہزار زائرین کی گنجائش تک بڑھانا، دس ہزار زائرین کے آرام کیلئے  خیمہ بستی کا قیام اور بارڈر سے لیکر دربار تک شٹل سروس بھی منصوبے میں شامل کیے  گئے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بارہ بستر پر مشتمل ہسپتال اور ساٹھ سے زائد امیگریشن کاؤنٹر ز پر مشتمل وسیع عمارت کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ بنے۔ یہ ایک عظیم خواب تو تھا ہی مگر ایک بہت بڑا چیلنج بھی تھا۔ اس منصوبے کو ایک مکمل ٹیم ورک کے ذریعے ایک سال سے بھی کم مدت میں مکمل کر کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا گیا۔ اس راہداری کا افتتاح 9نومبر 2019 کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کریں گے، جس میں بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو حکومت پاکستان کی دعوت پر شرکت کریں گے۔

اے پی پی /حمزہ رحمٰن/حامد

Video Download