چترال ، 11 اگست (اے پی پی ):شہد نہ صرف  توانائی سے بھر پور غذا ہے بلکہ اس میں  مختلف  بیماریوں کیلئے شفاء بھی ہے،شہد مختلف  مراحل سے گزر کر   شہد کی مکھیوں کے ذریعے  تیار ہوتا ہے جبکہ  جنگل میں بھی قدرتی طورپایا  جاتا ہے ۔

دور جدید  میں  اسے فارم کے اندر مکھیوں کے ذریعے تیار کروایاجاتا ہے،جہاں  لکڑی سے  بنے صندوق نما پیٹیوں میں  شہد کی مکھیوں   کو پالا جاتا ہے اور یہ پیٹیاں ایسی  جگہ رکھی  جاتی  ہیں جہاں آس پاس درخت اور پودوں میں  پھول موجود ہوں  کیونکہ شہد کی  مکھیاں ان پھولوں کا رس چوس کر پیتی ہیں  جس  سے بعد  میں  شہد بنتا ہے۔

ایک ماہ بعد ان چھجوں کو پیٹیوں سے نکال کر ایک خاص مشین میں ڈالا  جاتا ہے اور اسے تیزی سے گما کر  ہوا کی دباؤ کی مدد سے اس سے شہد نکالا جاتا ہے جو ایک ٹپکہ میں بھر دیا جاتا ہے،اس کے بعد ان کو  مختلف  برتنوں میں پیک کرکے بیچ دیا جاتا ہے۔

کرونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں جہاں دیگر کاروبار متاثر ہوئے ہیں   وہاں اس سے شہد کی صنعت  کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے ۔ چترال کے بالائی علاقے میں  جنگل کے قریب رکھے ہوئے شہد کی مکھیوں کا رکھوالا رسول خان  بھی اس سال  کرونا وبا سے پریشان   ہے ،وہ پچھلے چالیس سالوں سے یہ کاروبار کررہا ہے اور ہر سال ضلع چارسدہ سے یہ مکھیاں چترال لاکر پالتا ہے ۔اس  سال  لاک ڈون کی وجہ سے وہ ان مکھیوں کو کہیں پھولوں کے قریب نہیں لے جاسکا اور  مکھیوں  کو   خوراک دینے   کیلئے  اس  نے اسے   گھر پر ہی  رکھا،  جس  کی  وجہ سے  اسے  بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

رسول خان نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ مالی  مدد کی جائے یا ان کو بلا سود قرضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں کیونکہ  موسم حزاں اور سردیوں میں جب درختوں کے پتے جڑ جاتے ہیں  تو وہ  ان مکھیوں کو گھر میں رکھ کر ان کو لاکھوں روپے  کی  چینی کھلاتا ہے تاکہ یہ مکھیاں کہیں اور نہ جائے ۔

 وی این ایس ، چترال