چترال ،04 نومبر (اے پی پی ):  کرونا وائرس نے  جہاں دنیا بھر  کی معیشت اور کاروبار کو متاثر کیا ہوا ہے وہاں اس وباء کی وجہ سے کیلاش  کی    عوام    بھی   شدید  متاثر  ہوئی      اور کیلاش کے مذہبی تہوار چیلم جوش  سمیت   دیگر   کئی      تہواروں میں    سیاحوں  کے  نا   آنے  سے    یہاں   کا روباری  سرگرمیاں   ماند     پڑ   گئی  ہیں  ۔

کیلاش لوگ ہزاروں سالوں سے سال میں دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں۔ ان تہواروں میں کیلاش لوگ رقص کرتے ہوئے گیت گاتے ہیں اور ڈھولک بجاتے ہیں۔ ان کی مخصوص ثقافت، لباس،اور نرالی طرز زندگی کو دیکھنے کیلئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں اور یہاں کے لوگ ان تہواروں میں آنے والے سیاحوں کی  راہ تکتے ہیں۔

نہ صرف وادی کیلاش میں مقیم ہوٹل مالکان بلکہ چترال بھر کے ہوٹل  مالکان   ان تہواروں  کا انتظار کرتے ہیں   اور جب  ان    تہواروں  کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاح ان ہوٹلوں میں ٹہرتے ہیں تو ان ہی سیاحوں سے ان  ہوٹل  مالکان  کی   آمدنی ہوتی ہے۔ اس مرتبہ  کرونا وبا کی وجہ سے ملک بھر میں تمام قسم کے نقل و حرکت پر پابندی لگی تھی  جس کے باعث  یہاں   کے ہوٹل  مالکان  کو  شدید  کاروباری نقصان ہوا۔