اسلام ٓباد،04  مارچ    (اے پی پی ):  پاکستان میں  زراعت کے بعد تعمیرات  ایک   انتہائی  اہم شعبہ ہے جس کی ترقی  ملکی معیشت کے  لیے انتہائی   اہم کردار ادا کر سکتی ہے   اور اس سے متعلقہ دیگر شعبوں میں  بھی روزگار کے نئے  مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے  ۔

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجہ میں بری طرح متاثر ہونے اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کرنے ،  تعمیراتی  شعبے  اور  اس  سے متعلقہ صنعتوں کی ترقی اور مزدوروں کو روزگارکے     مواقع       کی   فراہمی کی غرض   سے   وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے ایک تاریخی   مراعاتی پیکج کا اعلان کیا  ہے۔  اس پیکج  کے تحت شعبہ تعمیرات کو انڈسٹری کا درجہ دینے ،  تعمیرات کے لئے  کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ  کے  قیام  اور تعمیرات اور اس سے متعلقہ  شعبہ  جات کو  کو 14 اپریل سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

اس پیکج  کے مطابق   رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کا ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا،  تعمیراتی سیکٹر پر فکسڈ ٹیکس نافذ ہو گا جبکہ    سیمنٹ اور سٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ      گھر فروخت کرنے والوں سے کیپیٹل گین ٹیکس  بھی   نہیں لیا جائے گا۔

تعمیراتی   شعبے کو دئیے جانے  والے پیکج  کے مطابق   نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی کا   اعلان بھی کیا گیا ہے۔  وزیراعظم کے ہاﺅسنگ پروگرام میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا اور وہ صرف اپنے منصوبوں پر ٹیکس کی مجموعی رقم کا 10 فیصد ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ  پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتوں کی مشاورت سے تعمیراتی شعبے پر سیلز ٹیکس تمام ٹیکسوں کو یکجا کر کے دو فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد  مشکل ترین حالات میں  بھی  ملکی معیشت کی بہتری اور  اس تمام صورتحال  سے سب سے زیادہ متاثر   ہونے والے مزدور طبقے کو زیادہ سے زیاد ہ ریلیف فراہم کرنا ہے  تا    کہ ملکی معیشت     ترقی کرے اور   عوام کو   زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔

اے پی پی    /   سعیدہ/قرۃالعین