بہاولپور،14اپریل(اے پی پی):جنوبی پنجاب   کی سب سے بڑی درسگاہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اس خطے کے عوام کو  معیاری تعلیم  فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور  میں مختلف شعبہ جات پڑھائے جاتے ہیں جن میں منیجمنٹ سائنس، کمپیوٹر سائنس،آرٹس، سوشل سائنسز، ایجوکیشن وغیرہ شامل ہیں،یہاں 13 فیکلٹیز اور  چار کالجز ہیں جبکہ زرعی تحقیقاتی  فارم،سولر انرجی پارک، فیکلٹی بلڈنگ بھی موجود ہیں، یہاں 45000  طلباء و طالبات مختلف پروگراموں میں بیچلر سے لیکر پی ایچ ڈی تک ڈگری حاصل کرنے میں مگن ہیں۔

اس جامعہ میں کپاس،جنگلی حیات  اور خطے کی ثقافت پر تحقیقاتی کام ہو رہا ہے اور کپاس کیلئے اب تک  کئی قسم کے نئے بیچ متعرف کروائے جا چکے ہیں جںکہ چولستان  انسٹی ٹیوٹ آف ذیزرٹ اسٹڈیز کے زیر اہتمام جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے مختلف  اداروں کیساتھ مل کر  کام کیا جا رہا اور انسٹی ٹیوٹ آف کلچر ہیریٹیج  کے تحت خطے کی ثقافت کے  تحفظ  اور اسے اجاگر کرنے میں کلیدی  کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

 اے پی پی کو  خصوصی انٹر ویو میں وائس چانسلر  اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور انجنیئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب  نے  بتایا کہ اس جامعہ کی کل پانچ کیمپس  ہیں جن میں تین کیمپس بہاول پور میں ہیں جبکہ ایک  کیمپس بہاول نگر اور دوسرا رحیم یار خان میں ہے۔انہوں  نے کہا کہ سب سے بڑا کیمپس بغداد الجدید ہے۔

وائس چانسلر نے کہا کہ اس جامعہ میں ایک ہزار سے زیادہ فیکلٹی اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ بارہ سو وزٹنگ فیکلٹی ممبرز ہیں  جبکہ اگلے چھ مہینے میں  تین سو  اور اگلاایک سال  میں  مزید پانچ سو فیکلٹی ممبرز رکھے جائیں گے۔

  ڈاکٹر اطہر نے کہا کہ  یہ  ایک جنرل پبلک یونیورسٹی ہے اور اس کے کیمپس  ریذیڈنشل یعنی رہائشی کیمپس ہیں۔ ہر کیمپس میں ہاسٹل موجود ہے اور اس جامعہ کے پاس چھ ہزار طلباء و طالبات کو  ہاسٹل میں رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جامعہ میں ملک بھر سے طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں بلوچستان سے  نوسو طلباء زیر تعلیم رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان، سابقہ فاٹا، خیبر پحتون خواہ، اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی بڑی تعداد میں طلباء یہاں زیر تعلیم ہیں۔

 تعلیمی اخراجات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہاں  نہایت مناسب فیس پر تعلیم دی جاتی ہے ،  پچھلے سیشن میں گیارہ  ہزار طلباء کو چار سو ملین روپے کا سکالر شپ دیا گیا جو  ہمارے کل بجٹ کا 25 فیصد بنتا ہے۔ برطانیہ سے بھی سکاٹش سکالر شپ میں 71 طالبات کو سکالر شپ دی گئی تھی۔

بوٹانیکل گارڈن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ ریت  کے  ٹیلے اور ریگستان پر مشتمل تھا اسے ہم نے باغ میں تبدیل کیا۔ اس وقت ہمارے پاس دس ہزار کامیاب درخت ہیں   اور دس ہزار پودے اب مزید لگنے ہیں۔ اسی طرح بغداد کیمپس میں 60000 درخت لگائے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ پودے مزید لگائے جائیں گے۔

  انہوں نے بتایا کہ  یہ واحد یونیورسٹی ہے جس میں اوپن میرٹ پر داخلہ لینے کیلئے  پنجاب کے ڈومیسائل کی ضرورت نہیں ، چترال سمیت ملک کے ہر اضلاع کے طلبا و طالبات کے ساتھ ہر قسم کا  تعاون کیا جا رہا ہے اورمستحق طلباء  کو مفت تعلیم  دینے کیلئے یونیورسٹی ان کیلئے سکالر شپ کابھی بندوبست کرتی ہے۔

واضح رہے کہ بہاولپور  کے نواب نے 1925 میں  ایک علمی درس گاہ کی بنیاد رکھی تھی جہاں فارسی اور عربی زبان میں  دینی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اسی جگہ5اکتوبر 1950 کو  جامعہ عباسیہ بہاولپور کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور 1975 میں اسے باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کا درجہ دے کر اسکا نام جامعہ عباسیہ سے  اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور رکھ دیا گیا۔