اسلام آباد،10 اپریل  (اے پی پی): انٹر یونیورسٹیز کنسورشیم فار پروموشن آف سوشل سائنسز کے کوآرڈینیٹر مرتضی نور   نے کہا ہے کہ  کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے وہاں تعلیم کے شعبے پر بھی اس  کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور بچوں کو اس وبا سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکول، کالجز اور یونیورسٹیز بند   ہیں  جس  سے  تعلیمی عمل متاثر ہو رہا ہے ۔ ان حالات میں طالب علموں کی تعلیمی سرگرمیوں کو  جاری رکھنے اور تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے آن لائن سسٹم کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ان حالات میں صحت اور تعلیم دونوں کے لیے بہترین آپشن ہے۔

قومی خبر رساں ادارے اے پی پی سے خصوصی گفتگو  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً اڑتالیس ملین اسٹوڈنٹس اسکول نہیں جا پا رہے جبکہ 211 یونیورسٹیز جن کے تقریباً 130 کیمپس بھی ہیں  جن میں تعلیم حاصل کرنے والے دو لاکھ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ان کا کہنا تھا اس حوالے سے کچھ شکایات بھی موصول ہوئی ہیں  کیونکہ اس نظام کو چلانے کے لیے تجربے کار اساتذہ اور بہترین سروس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ فیصلہ طالب علموں کے وقت اور تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

اے پی پی/سعیدہ/قرۃالعین