اسلام آباد،09اگست (اے پی پی ):کشمیر  ۔۔ جنت نظیر وادی      ۔۔  جسکے  حسن و  جمال  اور دلفریب  مناظر    کے باعث  اسے   جنت ارضی کہا گیا۔    جس کی بیش بہا خوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا گماں ہوتا ہے جیسے دنیا میں جنت کا ٹکڑا اُتر آیا ہو لیکن  اس   جنت کے باسی  گزشتہ کئی  دہائیوں  سے  بھارت  کے غاصبانہ  قبضے سے آزادی کے لیے  جدوجہد کر رہے ہیں  لیکن کشمیر یوں  کی قربانیوں ، یو  این او کی قراردادوں اور  بین الاقوامی دباؤ  کے باوجود بھارت  کشمیریوں  کو ان کا حق  خودارادیت دینے  کے لیے  تیار نہیں   ہے ۔

ستم بالائےستم  بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیاجس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ اس کے   علاوہ بھارت نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں بھی تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔

آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔

بھارتی حکومت کے ظالمانہ اقدامات نے مقبوضہ کشمیر میں حالات کو انتہائی کشیدہ کردیا ہے، مقبوضہ وادی میں دفعہ 144 نافذ کرکے ان   غیر انسانی  اقدامات کے نفاذ کے لیے   بھارت نے  غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے،موبائل فون اور لینڈ لائن سمیت انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے جبکہ  کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے حریت رہنماؤں کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیاگیاہے۔

پاکستان کی حکومت نے ہر  سطح پر کشمیر کے مسئلے پر آواز بلند کی ہے اور  ثابت کیا ہے کہ  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کی حکومت اور عوام ہر مشکل کھڑی میں  اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں  ۔

سورس: وی این ایس ، اسلام آباد