کوئٹہ، 23 اپریل (اے پی پی): اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سیدہ ندا کاظمی نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر آٹھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کرکے ہلکی پھلکی سزائیں اور سرزنش کی گئی ہے جبکہ تین ہزار سے زائد دکانوں کو سیل کیا گیا ہے، لوگوں نے قانون شکنی کے روئیے نہ بدلے تو سخت کارروائی پر مجبور ہونگے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران گراں فروشی کے مرتکب تاجروں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے، ملک میں کورونا وائرس کی وباءکے ان غیر معمولی حالات میں گراں فروشی کے مرتکب افراد کسی رعائیت کے حق دار نہیں، اس سلسلے میں کوئٹہ انتظامیہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی میں ملوث افراد کے خلاف مسلسل کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ رش والے مقامات، غیر ضروری میل جول اور اجتماع میں موجود افراد کو گرفتار کیا جائے گا ،لوگ احتیاط برتیں ۔ کورونا وائرس کے بڑھتے واقعات باعث تشویش ہیں،، لوگوں کی غیر سنجیدگی کا یہی عالم رہا تو لاک ڈاون کو مزید سخت کیا جائے گا کیونکہ کورونا وائرس کی وباءکا پھیلاو لوگوں کے میل جول سے منسلک ہے جس کا ادراک ضروری ہے ،ہماری کوشش یہی ہے لوگوں کو ایسی صورتحال میں اپنے گھروں تک محدود رکھیں تاکہ کورونا وائرس کی وباءکو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سٹی میں منافع خوری کے تدارک کیلئے انتظامی مجسٹریٹ روزانہ مختلف علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کو مانیٹر کررہے ہیں ،اس طرح کے حالات میں بہت سارے لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ،ان کو کہنا چاہتے ہیں کہ یہ وقت کمائی کرنے کا نہیں ،نیکیاں کمانے کا ہے اس لئے ایسے تمام افراد کو منتبہ کرتے ہیں کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی سے باز رہیں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اے پی پی / محمد بلال /حامد