اسلام آباد، 29 اپریل(اے پی پی ):کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کے تحفظ کے لیے وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کے لئے  بارہ سو ارب   روپے  کے    پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اقتصادی  پیکج  کا اعلان  کر دیا  ہے۔

پیکج میں    ایمرجنسی رسپانس کے لئے 190 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں کورونا کے خلاف جنگ کے لئے این ڈی ایم اے کو آلات اور آپریشن کے لئے 13 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ 12 ارب روپے اضافی دیئے جا رہے ہیں۔ طبی آلات کی درآمد پر 61 مصنوعات پر مکمل ٹیکس کی چھوٹ کے علاوہ طبی ورکرز کے لئے 50 ارب روپے جبکہ ایمرجنسی فنڈ کے لئے 100 ارب روپ رکھے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ   شہریوں کے ریلیف کے  لیے پیکج میں        570  ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں 12 ملین متاثرہ خاندانوں کو تین ہزار روپے چار ماہ کے لئے دیئے جائیں گے جو 144 ارب روپے ہوں گے   جبکہ    کفالت پروگرام سے استفادہ کرنے والے پانچ ملین خاندانوں کو چار ماہ کے لئے تین ہزار روپے فی گھرانہ دینے کے علاوہ 7 ملین مزید گھرانوں کو مالی معاونت دی جائے گی  تاکہ غریب طبقات کو کورونا وائرس کے اثرات سے ریلہف فراہم کیا جا سکے۔

 روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو 200 ارب روپے جبکہ بجلی اور گیس کے بلز کو تین ماہ موخر کرنے کے لیے  اس پیکج میں     100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پٹرول ڈیزل کی قیمت میں کمی کے لئے 70 ارب روپے اور یوٹیلٹی سٹورز کو 50 ارب روپے کی اضافی گرانٹ دی جائے گی تاکہ آٹے، دالوں، چینی اور گھی سمیت پانچ بنیادی اشیاء خوردنی سستے نرخ پر فراہم کی جا سکیں ۔ مزید برآں کاروباری برادری اور معیشت کی سپورٹ کے لئے 480 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں 8.25 ملین ٹن گندم کی خریداری کے لئے  ہیں ،کاشتکار طبقہ سے 280 ارب روپے کی گندم خریدی جائے گی جس سے حالیہ سیزن میں افراط زر کو کم کیا جا سکے گا۔  اسی طرح خوراک اور صحت کی مصنوعات پر ٹیکس مراعات کیلئے 15 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔

 پیکیج میں صنعت اور برآمد کنندگان کیلئے 100 ارب بھی شامل ہیں، یہ رقم ان کے مالی مسائل کے خاتمہ کیلئے ان کو ریفنڈ کی ادائیگی اور پرنسپل رقم پر سود کی وصولی کی چھوٹ کی مد میں دی جائے گی   جبکہ   زراعت اور ایس ایم ای کے   شعبہ کیلئے 100 ارب روپے   مختص کیے گئے  ہیں    جو قرضوں، رعائتی قرضوں سمیت کریڈٹ سبسڈی کیلئے ہوں گے، کھاد کی صنعت کو مراعات دینے سے  کھاد کی قیمت کم ہونے سے کاشتکار کو فائدہ ہو گا۔

تعمیراتی صنعت کیلئے  بھی  حکومت  کی جانب سے ایک  علیحدہ پیکیج کا اعلان  جلد متوقع ہے جس کے زریعے تعمیراتی صنعت  اور اس سے   متعلقہ  شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں مزدوروں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔

 وزیراعظم عمران خان کے معاشی پیکج سے ملکی معیشت کی بحالی کے علاوہ عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی سمیت زراعت اور صنعت کے شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔

اے پی پی /سعیدہ/حامد