اسلام آباد۔3جون  (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ورچیوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں سرمایہ کاری میں کوئی اضافہ نہیں کیا، قرضے لے کر معیشت کو سہارا دیا گیا جس سے 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ گیا۔ 2018ء میں مصنوعی طریقے سے روپے کو مستحکم رکھا گیا۔ مسلم لیگ (ن) خود تسلیم بھی کرتی ہے کہ ان کی غلطیوں کی وجہ سے کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافہ ہوا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کے اس خسارے کو کون پورا کرتا کیا ہم نے ملک میں ڈالروں کی مشین لگائی ہوئی ہے، کہیں نہ کہیں سے تو یہ پیسے لینے تھے اور پھر آئی ایم ایف سے ہی رجوع کرنا پڑا جس نے اپنی سخت شرائط عائد کیں اور ٹیرف میں اضافہ کر دیا۔ گیس کی قیمت بڑھانے کی بھی بات کی اور روپے کو ڈی ویلیو کرنے کا بھی کہا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے باوجود معاشی صورتحال کو سنبھالا گیا، اس خطے میں معیشت کی بہتری کیلئے کسی حکومت نے ایسے اقدامات نہیں کئے جو پاکستان کی حکومت نے کئے۔

 انہوں نے   کہا کہ پاکستان کی شرح نمو 4 فیصد سے اوپر جا رہی ہے، یہ اگلے سال 5 فیصد اور اس سے اگلے سال 6 فیصد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری کیلئے مختصر درمیانے اور طویل مدت کے منصوبے بنائے ہیں۔ شوکت ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت کی سوچ مثبت ہے، سابق حکومت نے کیپسٹی پے منٹ کے مہنگے معاہدے کئے اور اس کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ معیشت کو استحکام سے ترقی کی جانب لے جائیں گے، ٹیکس محصولات میں ہر سال 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور اگلے دو سال میں ٹیکس وصولی کو 7 ٹریلین سے اوپر لے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم ٹیکس پر ٹیکس نہیں لگائیں گے بلکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، ایف بی آر کی طرف سے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا سلسلہ بند کرایا جائے گا۔ پی ایس ڈی پی میں 38 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا، بجٹ میں زراعت ، برآمدی شعبے، آئی ٹی اور انڈسٹری کو سہولیات دی جائیں گی، خسارے کے شکار سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل شروع کیا جائے گا، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کا عمل شروع کرینگے جبکہ 4 سے 6 ملین افراد کو گھر، قرضے، ہیلتھ کارڈ اور ہر خاندان کے ایک فرد کو فنی تعلیم فراہم کی جائے گی، 2022-23ء میں جو نمو ہو گی وہ پائیدار اور زیادہ ہو گی اور سب کیلئے ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کا 4700 ارب روپے کا ہدف پورا کیا جائے گا اور اگلے سال ہمارا ہدف 5.8 ٹریلین روپے ہو گا۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ریٹیل اور دیگر صوبوں تک ٹیکس کا دائرہ بڑھائیں گے۔ ہمارا مقصد نچلے طبقے کو سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ فلاحی ریاست قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف کمیشن اور ڈیبٹ کمیشن کی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی، رپورٹ آئی تو سامنے لائیں گے۔ آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے کہ ٹیرف بڑھا کر غریبوں پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، ہم اس کا متبادل دینگے، وہ گردشی قرضے میں اضافہ روکنا چاہتے ہیں، ہم ایسے اقدامات کرینگے کہ یہ نہ بڑھے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب معیشت کی گروتھ رک جائے اور کووڈ کی وجہ سے لاک ڈائون کرنا پڑے تو غربت تو بڑھتی ہے لیکن حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے، غربت کا خاتمہ کیا جائے گا اور اگلے دو تین سال میں فرق واضح نظر آئے گا۔ شوکت ترین نے کہا کہ ڈالر 154، 155 روپے پر اب مستحکم ہے، آئی ایم ایف نے ڈسکائونٹ ریٹ 13 فیصد سے بڑھا کر ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے قرضہ لینا ہے تو یہ کرنا پڑے گا۔ ہمارے چاہتے ہیں کہ ڈیبٹ سروسنگ کو مستحکم کیا جائے، موجودہ حکومت نے پٹرولیم  ڈویلپمنٹ لیوی ختم کر دی ہے، (ن) لیگ نے اپنے دور میں بجلی کا ٹیرف نہیں بڑھایا اور یہ بڑا گردشی قرضہ لے کر چھوڑ گئے۔ اس کے علاوہ گندم کا تمام ذخیرہ بھی ختم کر دیا جس کی وجہ سے ہمیں گندم درآمد کرنا پڑی۔ موجودہ حکومت زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے جس کے بعد ہم درآمد کی بجائے برآمد کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔