چترال،25 اگست (اے پی پی ): کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار  اوچال اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ  احتتام پذیر ہوچکا ہے  مگر یہاں آئے ہوئے سیاحوں کا یہ خوبصورت  علاقہ چھوڑنے کا اب   بھی  دل نہیں چاہ  رہا ۔ کیلاش قبیلہ  ہر سال یہ تہوار اس وقت مناتا   ہے   جب  علاقے میں پھل پک جائے اور یوں یہ شکریہ ادا کرنے کا بھی تہوار کہلاتا ہے۔

وادی کیلاش اتنی   خوبصورت وادی ہے  اور یہاں کا موسم اتنا خوشگوار ہے کہ یہاں آئے ہوئے سیاح واپس جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔  وادی کی سڑکیں اگرچہ بہت خراب  ہیں    مگر پھر بھی سیاحوں کی آمد میں کوئی کمی نظر نہیں آتی اگر یہاں کی سڑکیں بہتر بنائی گئی تو شاید یہ سیاحت کا دنیا بھر میں سب سے بڑا مرکز قرار پائے ۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش  نے بتایا کہ وادی کی سڑکوں کیلئے ان کی حکومت نے چار ارب  ساٹ کروڑ روپے محتض کئے ہیں اور بہت جلد اس کی تعمیر کا کام شروع  کر دیا جائے گا،انہوں نے   کہا کہ حکومت بھی  سیاحت کو ترقی دینے کیلئے کافی مخلص ہے  اور وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق  سیاحت  میں  مزید بہتری لانے کیلئے  مختلف  منصوبوں پر کام جاری ہے۔

اوچال کے  تہوار والے   دن  کیلاشی  خواتین مخصوص انداز میں گول دائرے میں ٹولیوں کی شکل میں رقص پیش کرتی ہوئی مذہبی گیت گاتی ہیں جبکہ رات کے وقت وادی بمبوریت میں یہ تہوار صبح تک جاری رہتا ہے۔ خواتین کے ساتھ ساتھ مرد حضرات بھی ڈھولک کی تھاپ پر مخصوص انداز میں رقض پیش کرتے ہیں۔ کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جن کو قاضی کہلاتا ہے وہ اپنے بزرگوں  کی تعریفی گیت گاتے  ہیں اور آس پاس لوگ ان کے سر پر رکھی ہوئی ٹوپی میں پچاس، سو، پانچ سو  روپے کے نوٹ رکھتے ہیں جو عزت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

اس تہوار میں چھوٹے، بڑے، جوان، بوڑھے یعنی ہر عمر کے لوگ یکساں طور پر  حصہ  لیتے  ہیں ۔ کیلاش لوگ سال میں چار مختلف تہوار مناتے ہیں جن کو دیکھنے کیلئے  کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس جنت نظیر وادی کا رح کرتے ہیں۔

اوچال کے  تہوار  میں   وادی کیلاش  آنے والے تمام سیاحوں  نے کیلاش ثقافت کی تعریف کے ساتھ ساتھ  سڑکوں  کی بہتری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کیلاش تہوار دیکھنے کیلئے سکھ، ہندو، بہائی اور مختلف اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے اراکین آئے ہوئے تھے ۔