چترال،23اگست(اے پی پی ):کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار” اوچال” اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ وادی کیلاش میں اختتام پذیر ہو گیا ۔یہ تہوار کیلاش کے  لوگ سال کے درمیان میں مناتے ہیں جو اکثر گندم کی کٹائی کے بعد منعقد ہوتا ہے۔ اوچال کے تہوار میں کیلاش لوگ دودھ سے بنی ہوئی چیزیں پنیر، پینک، شوپینیک وغیرہ  لوگوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔

اوچال تہوار  کے دوران   ایک خاص رسم  بھی منائی  جاتی  ہے  جس میں وادی کے لوگ پھول اور پتے اکھٹے کرکے ماتم زدہ گھروں میں جاتے ہیں جہاں فوتگی ہوئی ہو اور اس طرح پھول ان کے ہاتھوں میں دیکر دکھ ختم کرکے وہ لوگ بھی ان کے رسم میں شریک ہوتے ہیں۔

کیلاش لوگ اکثر رات کو بھی رقص کرتے ہیں اور چراغاں ہاتھوں میں لیکر چرسو  آتے ہیں جہاں وہ رقص کرتے ہیں اپنے ساتھ پنیر وغیرہ بھی لاتے ہیں اور اسے لوگوں میں  تقسیم کیا  جاتا ہے۔

کیلاش لڑکی آرمینہ کہتی ہے کہ اس تہوار میں لڑکے ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ لڑکیاں(خواتین) اکھٹے رقص  پیش کرتی ہیں اور گیت گاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں اور دعائیں بھی مانگتے ہیں۔

برطانیہ سے آئی ہوئی ایک خاتون سیاحCharlotte Hophinsen کا کہنا ہے کہ مجھے یہا ں آکر بہت مزہ آیا اور ہمیں چاہئے کہ ہم کیلاش ثقافت کو محفوظ رکھیں  اسے حتم نہ ہونے دیں  کیونکہ انہی تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح  یہاں کا رح کرتے ہیں۔

اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش کا کہنا ہے کہ اوچال پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں  جنہوں  نے  ہمیں اتنی نعمتیں دی ہیں اور خصوصی دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ وزیر زادہ نے اس موقع پر دنیا بھر  اور خصوصی طور پر پڑوسی ملک ہندوستان کو پیغام دیا کہ اگر کسی نے اقلیتوں کے ساتھ محبت، رواداری اور نرمی دیکھنی ہو تو  وہ پاکستان آکر کیلاش لوگوں کے مسلمانوں کا شفقت دیکھے اور اس سے سبق حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیلاش بہت قلیل تعداد میں  ہیں  مگر مسلمان بھائیوں کی شفقت اور ان کی مہربانی سے ہم اپنے تمام مذہبی رسومات نہایت آزادی  کے ساتھ مناتے ہیں۔

اوچال تہوار میں چترال کی ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر اور انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکت کی  جن کی آمد پر کیلاش روایات کے مطابق ان کو زرق برق کے رنگین چوغے پہنائے گئے جو عزت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

سورس: وی این ایس ، چترال