چترال،29 جنوری (گل حماد فاروقی) :پاکستان میں مقیم کینیڈا کی ہائی کمشنر ونڈی گیلمور ان دنوں  چترال کے دورہ پر آئی ہوئی ہے ان کے ہمراہ سفارت حانہ کا اور عملہ بھی موجود ہے۔انہوں نے ضلع اپر چترال میں ماحولیاتی اکیڈیمی کا دورہ کرکے وہاں موجود طالبات سے موسمیاتی تبدیلی پر تبادلہ حیال کیا۔ بونی کے مقام پر ایک مقامی گیسٹ ہاؤس میں  ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر شاہ سعود اور اسسٹنٹ کمشنر شہزاد خان نے بھی ان سے ملاقات کرکے موسمیاتی تبدیلی اور چترال پر اس کے ہونے والے اثرات پر بات چیت کرلی۔

ہائی کمشنر نے مقامی طالبات کے ساتھ قاقلشٹ کے پہاڑی پر ہائکنگ کرکے پیدل چڑھی۔

بعد ازاں انہوں نے جونالی کوچ میں برفانی ہاکی کھیلنے والے طالبات سے ملے۔ یہاں ذرعی زمین تھی  جو سیلاب کی وجہ سے دریا برد ہوچکا ہے اور اب یہاں لوگ مرغابیوں کا شکار کیا کرتے تھے مگر شدید سردی کی وجہ سے یہ پانی جم کر برف بن چکی ہے اور مقامی طلبا و طالبات اس کے اوپر برفانی ہاکی کھیلتے ہیں۔ہائی کمشنر نے ان طالبات کے ساتھ چند لمحے گزار کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے نمائندے سے حصوصی باتیں کرتے ہوئے مس ونڈی گیلمور نے کہا کہ موحولیاتی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہم سب نے مل کر اس چیلنج کا مقابلہ بہترین حکمت عملی اور احتیاطی تدابیر سے کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک محصوص علاقہ ہے اور نہایت خوبصورت جگہہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ہم سب کو آگاہ رہنا چاہئے۔ کینیڈا بھی سرد ترین ممالک میں شامل ہیں جہاں  دو مرتبہ ہم بھی متاثر ہوتے ہیں مگر پاکستان میں ہندوکش  اور قراقرم رینج  وغیرہ  ایسے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہورہے ہیں۔ ہم اسلئے چترال آئے ہوئے ہیں کہ مقامی کمیونٹی سے ملے اور ان سے مل بیٹھ کر بات چیت کرے تاکہ ان میں آگاہی پیدا ہوسکے اور ہم سب ملک کر حفاظتی تدابیر سے اس مسئلے کا حل نکال سکے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہم سب نے مل کر بہترین حکمت عملی سے اس کا مقابلہ کریں گے کیونکہ قدرتی آفات کو ہم روک تو نہیں سکتے مگر حفاظتی اقدامات سے اس کی نقصان کا شرح کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

بعد ازاں وہ بالائی علاقے ہرچین کے دورہ پر روانہ ہوئی جہاں وہ مقامی لوگوں سے موسمیاتی تبدیلی پر تبادلہ حیال کرے گی۔