اسلام آباد ، 06  اگست ( اے پی پی ): یوں تو اسٹیشن کا رخ کہیں جانے کی غرض سے ہی کیا جاتا ہے، لیکن گولڑہ ریلوے اسٹیشن پاکستان کا وہ واحد اسٹیشن ہے جہاں کھٹری ٹرینوں میں سوار ہوتے ہی انسان خود کو سو سالہ   ماضی کا حصہ سمجھتا ہے  ،جی ہاں گولڑہ کا اسٹیشن ریلوے اسٹیشن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا میوزیم بھی ہے جس نے ریلوے کی سو سالہ تاریخ کو محفوظ کر رکھا ہے۔

گولڑہ شریف ریلوے عجائب گھر جو پاکستان ریلویز وراثتی عجائب گھر بھی کہلاتا ہے ،پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای ایلون (E-11) میں واقع  گولڑہ شریف جنکشن ریلوے اسٹیشن میں قائم ہے۔گولڑہ ریلوےا سٹیشن میوزیم 2003ء میں قائم کیا گیا جس کا مقصد ریل کے 150 سال قدیم ورثے کو محفوظ اور برقرار رکھنا تھا۔

اس عجائب گھر میں پاکستان ریلویز سے متعلق پرانے ریلوے انجنوں، ڈبوں، نادر اور تاریخی اشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ ریلوے سے متعلق پرانی اور نادر اشیاء کو دو ہالوں جبکہ پرانے انجنوں اور ڈبوں کو اسٹیشن کے پلیٹ فارم اور احاطے میں رکھا گیا ہے۔یہ اسٹیشن 1882ء میں برطانوی دور حکومت میں قائم ہوا اور اس کا جنکشن 1912 ء میں اپ گریڈ ہوا۔

 ونٹیج سیلونز بھی اس میوزیم کا حصہ ہیں ۔ ان میں سے ایک سیلون آخری وائسرائے ہند  لارڈ مائونٹ کے بیڑے کا حصہ تھا ۔یہ ایک اہم بات ہے کہ اسی  سیلون میں قائد اعظم محمد علی جناح کی کراچی سے لاہور کے دورانِ میزبانی کی گئی۔

سو سال قبل استعمال ہونے والے ٹیلی فون، بندوقیں، آلات جراحی، میڈیکل ڈرپ اورآخری وائسرائے  ہند لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے زیر استعمال برتن بھی اس میوزیم کی زینت ہیں۔ اس کے علاوہ پینسٹھ کی جنگ میں بھارتی پنجاب کے کھیم کرن اسٹیشن سے لایا جانے والا نیل بال ٹوکن انسٹرومنٹ بھی قابل توجہ ہے۔

وی این ایس،اسلام آباد