اسلام آباد، 10  اگست   (اے پی پی )  :پلاسٹک بیگز ایک ایسا زہر ہے  جو نہ صرف صحت انسانی  بلکہ پورے ماحول  اور حیاتیات  کے لیے  ایک خطرہ بن  چکا ہے ۔ کھانے پینے کی گرم اشیاءکو پلاسٹک بیگز میں پیک کروانا  ہماری  عادت  بن چکی  ہے  لیکن ہمیں اس بات کاہرگز احساس نہیں ہے   کہ اس طرح ہم اپنے کھانے کو  اپنے  لیے زہر بنا رہے ہیں کیونکہ اس سے پلاسٹک کے ذرات  کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جس  کے مضر اثرات سے انسانی صحت متاثر ہورہی ہے۔

پلاسٹک بیگز کے انسانی، موحولیاتی اور دیگر حیاتیات پر مرتب ہونے والے خطرناک اثرات سے بچاؤ کے لیے  پلاسٹک فری پاکستان  مہم موجودہ حکومت کا ایک قابل  تحسین اقدام ہےجس کا      آغاز     14  اگست 2019 سے  اسلام آباد  سے کیا جا رہا ہے ۔ اس مہم کے تحت  پلاسٹک بیگز کے استعمال سے صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام کے لئے  وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

 وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پلاسٹک بیگ پر پابندی کے قانون پر مکمل عملدرآمد کیلئے ایک مربوط منصوبہ بنا لیا ہے اور    عوامی آگاہی مہم  بھی شروع کر دی ہے  اس کے علاوہ   تمام بڑے خریداری کے مراکز کو مطع کردیا گیا ہے وہ پلاسٹک کے شاپرزکی بجائے کپڑے کے بیگز استعمال کریں۔

مذکورہ پابندی  صرف پولی تھین نامی مواد سے بننے والے بیگز پر لگائی  گئی ہے تاہم صنعتی پیکنگ، شہری فضلہ، شفاخانوں کا فضلہ اور زہریلے مواد کیلئے استعمال ہونے والے تھیلوں کو استثنیٰ حاصل ہو گا، استثنٰی کا پیمانہ بہت سخت ہے جو کہ پراڈکٹ کی تازگی اور متبادل پیکنگ مواد کی عدم دستیابی کے اصول پر مرتب کیا گیا ہے، متبادل تھیلوں کے درآمد کنندگان اور  صنعت کار متعلقہ تھیلوں کی ری سائیکلنگ کا منصوبہ مجاز اتھارٹی میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔  اس کے علاوہ ریکارڈ کیپنگ کے مقصد کیلئے تھیلوں پر صنعتکاراور  درآمد کنندگان کی شناخت بھی درج ہو گی۔

 وزارت موسمیاتی تبدیلی اسلام آباد کے بازاروں میں ایک لاکھ  دس ہزار تھیلے مفت تقسیم کرے گی  جبکہ پابندی  پر  عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں   جرمانہ  بھی عائد    کیا جائے گا۔

ماحول کی بہتر ی ہمارا فرض ہے  اور پلاسٹک بیگز پر پابندی وسیع تر عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔   ہمار ا فرض  ہے کہ حکومت کے ان اقدامات میں  تعاون کرکے اس پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں  تاکہ ہم پاکستان کو کلین اینڈ گرین بنا سکیں۔

وی این ایس ، اسلام آباد