اسلام آباد، 18 دسمبر (اے پی پی ):دنیا بھر میں   تارکین وطن کے حقوق کے   تحفظ   اور  دیکھ بھال  کو   یقینی بنانے   سے متعلق بین الاقوامی سطح پر موثر تعاون کو فروغ  دینے کے  لیے  اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال 18 دسمبر کو تارکین وطن کا عالمی دن  منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کی ابتدا فلپائنی و دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تنظیموں نے1997ءمیں کی۔ اس سال یہ   دن  ” ہم ایک  ساتھ  “کے   عنوان سے منایا جا رہا ہے  ۔

ایک اندازے کے مطابق      عالمی سطح پر    2019     میں       2010 کے مقابلے میں پانچ  کروڑ   دس لاکھ  تارکین وطن  کا اضافہ ہوا   ہے   جس کے بعد  تارکین وطن کی تعداد    ستائیس   کروڑ  بیس لاکھ    تک پہنچ چکی ہےجوعالمی آبادی کا 3.5 فیصد پر مشتمل ہے جبکہ سال 2000 میں یہ تعداد 2.8 فیصد تھی۔

اس سال17 اور 18 دسمبر کو    یو این ایچ سی آر  اور سوئٹزرلینڈ کی حکومت  نے   21 ویں صدی کے پناہ گزینوں کے بارے میں   پہلے عالمی فورم  جی آر ایف    کا انعقاد بھی کیا ۔  وزیراعظم عمران خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور کوسٹا ریکا، ایتھوپیا اور جرمنی کے رہنماﺅں کے ساتھ پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے اپنے مثالی کردار کے باعث فورم کی مشترکہ صدارت کی دعوت دی ہے۔

فورم   کے  موقع پر  وزیراعظم عمران خان نے   کہا کہ  پاکستان مشکلات کے باوجود 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، چاہتے ہیں کہ چالیس سال سے مصائب کا شکار افغان عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہوں، ایسے حالات پیدا کرنا ہوں گے کہ پناہ گزین باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹ سکیں ۔ پاکستان وہ ملک ہے جو اپنے ابتدائی دنوں میں ہی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی پناہ گزین تحریک کا حصہ رہ چکا ہے۔

عالمی سطح پر   پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد  پوری دنیا کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے  اور   اس   مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مختلف ممالک، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی  کو مل کر  کام کرنا ہو گا   تا کہ     اس دنیا کو      بہتر اور پرامن        بنا کر   ترقی اور   خوشحالی کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔

وی  این ایس،  اسلام آباد

Download Video