اسلام آباد،31مئی  (اے پی پی): سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پانی کی تقسیم کو تکنیکی سے ذیادہ سیاسی بنا دیا گیا ہے، بارشیں کم  ہوئیں  اور  گلیشئرز کم  پگھلے  جس  کی  وجہ سے  پانی کی  کمی  ہوئی ، جتنا  پانی آیا اتنا ہی  تقسیم ہوا ہے۔

وہ پیر کو پاک چائنہ فرینڈشپ سینٹر میں وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب اور پنجاب کے وزیر آبپاشی محسن لغاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے  کہا کہ 13سالوں میں 7ہزار 89ہزارسندھ میں لگائے گئے ،1650ارب ڈویلپمنٹ میں لگایا  جن میں 44فیصد کرپشن ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس سندھ اسمبلی میں 40فیصد سندھ عوامی مینڈیٹ  ہے ،ایک گھونٹ پانی چوری ہوا یا حق پر ڈاکہ ڈالا گیا تو ہم سندھ کے عوام کے لئے جنگ لڑیں گے ۔

 حلیم عادل شیخ نے کہا کہ میری وزیراعظم سے بھی ملاقات ہوئی ، عمران خان نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی صوبے کے ساتھ ذیادتی ہو،ایک مثال ہے ہمارے وزیراعظم نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے 35فیصد جو کہ 65ارب روپے صرف سندھ میں تقسیم ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت نفرت پھیلانے سے سے گریز کرے  پانی کی قلت پنجاب اور سندھ دونوں میں ہے ،بارشیں کم ہوئیں اسکی بڑی وجوہات میں  درجہ حرارت  کا نہ بڑھنا اور بارشیں کم ہونا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جون کے پہلے ہفتے میں سندھ کے لئے  ایک لاکھ 30کیوسک پانی ملنا شروع ہو جائے گا ۔

 حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں گمراہ کرنے کا ماحول پیدا کر کے پنجاب اور سندھ کو لڑا کر فیڈریشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لاسس ایک فیصد ،سندھ کے 39فیصد ،یہ لاسز نہیں پانی چوری ہے ،بھل صفائی نہیں کی، ایل بی او ٹی پر کام نہیں کیا گیا ۔ 19مئی کو19 اور بعد ازاں 330 براہ راست کینال سے کنکشن  دیئے  گئے ہیں ، ٹیل کے کاشتکاروں  اور چھوٹے زمیندار کو پانی نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ الزامات لگائے تو پی ٹی آئی کا گراف اوپر جانے لگا اب نفرت کی سیاست شروع کر دی گئی ہے ، سکھر اور کوٹری میں پانی چوری کا کہا جاتا ہے ، یہاںپر 50فیصد پانی چور کون ہیں۔