اسلام آباد،9جون  (اے پی پی):وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ چاہتی ہے وفاق پیسے دے لیکن حساب نہ مانگے، وفاقی حکومت اگر سندھ کے پسماندہ علاقوں کے لئے ترقیاتی منصوبے دیتی ہے تو اس پر وزیر اعظم اور نیشنل اکنامک کونسل کے شکرگزار ہیں،وزیر اعلی سندھ کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس انتہائی مایوس کن تھی،پیپلز پارٹی سندھ میں گزشتہ 13 سال سے بلاشرکت غیرے حکمران ہے لیکن وہاں کے عوام بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں،تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں کتے اور مویشی بندھے ہیں،کتے کے کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہیں۔

بدھ کو پی آئی ڈی میں وزیر نجکاری محمد میاں سومرو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ میں بہت سے منصوبے دے رہی ہے،سندھ میں کتوں کے کاٹنے کی ویکسیندستیاب نہیں ،ہسپتالوں اور سکولوں میں کتے اور جانور بندھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت سندھ میں راستے پکے کروا رہی ہے تو یہ پیسہ سندھ میں لگ رہا ہے اس پر وزیر اعلی کو وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہییے تھا وہ بے شک ان منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگوا دیتے،انکی پریس کانفرنسسے سندھ کے عوام کو مایوسی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو بچانا ہے،وہاں پر ڈاکو راج ہے،سندھ ہم ہیں آپ نہیں۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ سندھ کے حکمران بدین کی اس نہر سے پانی کا ایک گھرنٹ پی کر دیکھیں جہاں سے ہمارے بچے پانی پیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی وفاق کے دیئے منصوبوں پر تنقید کی بجائے این ایف سی میں ملنے والے حصے میں سے صوبائی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان کرتے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کالا باغ ڈیم کے خلاف تین صوبوں کی قراردادیں ہیں یہ متنازعہ ہے۔انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور سندھ کے عوام کی محرومیوں پر خاموشی اختیار نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں وزراء کا طرززندگی شاہانہ ہے،مگر عوام کو بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہاکہ سندھ کے دیہی علاقوں کے لوگ اپنے مریضوں کو ٹریکٹر ٹرالیوں پر ہسپتال لاتے ہیں اور یہاںپہنچتے پہنچتے وہ زندہ لاش بن جاتی ہے۔یونین کونسل تک سڑکیں حکومت سندھ کی ذمہ داری تھی،وہاں ہسپتال پہنچتے پہنچتے راستے میں عورتیں بچے جنم دیتی ہیں،یہ بھٹو کی دھرتی کی بیٹیاں ہیں،سندھ میں پی اے سی کی چیئرمین شپ میثاق جمہوریت کے تحت اپوزیشن کو نہیں دی جارہی،کسی قائمہ کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے ماضی کی حکومتوں نے کوئی کام نہیں کیا ،وڈیرے اور جاگیردار کسانوں کا پانی چراتے ہیں۔اپوزیشن کی سیاسی دیوار سے لگانے والی حکومت سندھ 13 سال سے بغیر مداخلت کے حکومت کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست وفاق ہے اور صدرمملکت وفاق کی علامت ہے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ڈاکو راج کی سرپرستی کر رہی ہے، سندھ کو اس کے حصے کا ملنے والے پانی کی تقسیم میں بھی انصاف نہیں کیا جا رہا، پانی نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکار چاول کی فصل کاشت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کا پورا پانی ملنا چاہیے اور پانی کی قلت کو تمام صوبوں میں بھی مساوی تقسیم کیا جانا چاہیے، سندھ کابینہ چاہتی ہے وفاق صوبے کو پیسے دے لیکن حساب نہ مانگے، سندھ میں اگر کوئی فنڈز کے استعمال میں بدعنوانی کا معاملہ اٹھائے تو اسے انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حکومت کا پیسہ سندھ کے بچوں اور عوام تک نہیں جا رہا، تعلیم، صحت اور نہروں پر سرکاری فنڈز خرچ نہ ہونے کے ذمہ دار کون ہیں، پیسہ چند ہاتھوں میں نہیں عوام تک جانا چاہیے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے وسائل میں اضافہ ہوا ہے، صوبوں کو چاہیے کہ وہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لئے بجٹ میں زیادہ فنڈز مختص کریں۔

 انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں نے ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب پر کوئی توجہ نہیں دی، پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے مختلف بیراجوں پر ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کی ضرورت ہے، سندھ میں بنیادی ڈھانچے کی حالت بہت ابتر ہے، وسائل پر با اثر لوگوں کا قبضہ ہے، فنڈز کے استعمال کی کوئی نگرانی اور اس کا کوئی احتساب نہیں ہے، احتساب پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔