اسلام آباد،10جون  (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ    حکومت  کی  کامیاب  معاشی   پالیسیوں  کی  مثبت  نتائج  سامنے  آ   رہے  ہیں ،  ایف بی آر  محصولات میں  ریکارڈ اضافہ  ہوا   ہے۔

جمعرات کویہاں قومی اقتصادی سروے 2020-21 کے اجرا کے موقع پر وفاقی وزیرمخدوم خسروبختیار،مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹرثانیہ نشتر، اورمعاون خصوصی ریونیو ڈاکٹروقار مسعودکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کہاکہ ایف بی آر نے 11 ماہ میں 4.2 ٹریلین روپے کی محصولات اکھٹاکیں، ایف بی آر کی محصولات میں اضافہ کی شرح 18 فیصدکے قریب رہی، مارچ کے بعد سے لیکراب تک ایف بی آر کی وصولیوں کی شرح 50 سے 60 فیصدزیادہ ہے، جاری مالی سال کیلئے ریونیوکا ہدف4.7 ٹریلین روپے تھا جو حاصل کرلیا جائیگا، آئندہ مالی سال کیلئے محصولات کاہدف 5800 ارب روپے رکھا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پرائمری بیلنس کوسرپلس کردیا گیاہے، گزشتہ 12 برسوں میں پہلی بارہماراپرائمری بیلنس سرپلس ہواہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ یہ ایک حقیقیت ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل، چینی، خوردنی تیل اوردیگراشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے، پاکستان اب خوراک کی زیادہ اشیا درآمد کررہاہے، ہماری کوشش ہے کہ خوراک کی اشیا کی  درآمدات میں کمی اوربرآمدات میں اضافہ کیا جائے۔عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ سے ہم نہیں بچ سکتے تاہم ہماری کوشش ہے کہ عام آدمی پراس کے اثرات کوکم سے کم کیاجائے، جاری مالی سال میں عالمی منڈی میں چینی کی قیمت میں 58 فیصداضافہ ہوا، حکومت نے صرف 19سے لیکر12 فیصدتک اضافہ کیا اور38 فیصد بوجھ خودبرداشت کیا، پام آئل کی بین الاقوامی قیمت میں 119 فیصداضافہ ہوا، پاکستان میں 22  فیصداضافہ صارفین کومنتقل ہواجبکہ باقی بوجھ حکومت نے برداشت کیا اسی طرح خام آئل اوردیگراشیا کی قیمتوں میں زیادہ تربوجھ حکومت نے خودبرداشت کیا اورصارفین کوقیمتوں میں اضافہ کے اثرات سے محفوظ رکھا گیا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مہنگائی پرقابوپانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کیلئے پیداوارمیں اضافہ کے ساتھ ساتھ انتظامی اقدامات پربھی توجہ دی جارہی ہے۔