لاہور، جون 3(اے پی پی): کسانوں کو سبسڈی اور دیگر مراعات کی فراہمی کے لیے کسان کارڈ کے دائرہ کارکو وسعت دی جائے گی۔بجٹ پرو بزنس ہو گا۔کارپوریٹ سیکٹر کی ایگری بزنس میں دلچسپی بڑھانے کے لیے 16فیصد ٹیکس کو ایک فیصد کر دیا گیا ہے۔ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے مزیداقدامات کرنے ہو گے۔ اوور ریگولیٹر سسٹم کو ختم کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم پاکستان کنسٹرکشن سے زیادہ فوکس کر رہے ہیں۔آئندہ بجٹ میں زراعت کی ترقی کے لئے کسانوں کو ریلیف دیں گے۔موجودہ بجٹ میں زراعت کا بجٹ سو فیصد سے زیادہ بڑھ جائے گا۔معیاری بیج کی دستیابی کے لئے وفاق اقدامات کر رہا ہے۔انفراسٹرکچر سیس کا خاتمہ سٹڈی کے نتائج سے مشروط ہو گا۔ٹیکس ریلیف آئندہ بجٹ میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت ہاشم جوان بخت نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں ریجنل چیئرمین چوہدری محمد سلیم بھلر کی قیادت میں کاروباری برادری سے ملاقات کے موقع پر کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ صنعتی ترقی کی وجہ سے توانائی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔جی ڈی پی گروتھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سٹیٹ بینک کی وجہ سے ہمارا جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ مالی سال میں 56ارب کا ٹیکس ریلیف دیا گیا تھا۔اسٹیمپ ڈیوٹی میں بڑا ریلیف دیا گیا۔

22سیکٹرز کو ٹیکسوں کی چھوٹ کے باوجودپی آر اے کی کارگردگی مثالی ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسوں کا تسلسل بر قرار نہ رکھا گیا تو دس سال بعد پھر ہم واپس اسی حالت میں پہنچ جائے گے۔ٹیکس اکٹھاکرنے کے لیے صوبائی ایجنسی اور ٹیکسوں کی شرح میں ہم آہنگی کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔وفاقی حکومت کو موقف سے آگاہ کر چکے ہیں۔جس سیکٹر کو ایف بی آر Zero Ratedکرئے گا،پنجاب میں وہ سکیٹر آٹو میٹکلی Zero Rated ہو جائے گا۔بنیادی ضروریات صحت اور تعلیم کے لیے زیادہ بجٹ مختص کیا جار ہا ہے۔پنجاب روزگار پروگرام کے لیے تین ارب مختص کئے گے ہیں اس کے ذریعے بھی قرض حاصل کئے جا سکتے ہیں۔