لاہور، 11جون (اے پی پی): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدرمیاں ناصر حیات مگوں سینئر نائب صدر خواجہ شاہ زیب اکرم،ریجنل چیئرمین  چوہدری سلیم بھلر اورسابق صدر میاں انجم نثار نے بجٹ 2021-22کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایف پی سی سی آئی کی 70فیصد سے زائد تجاویز پر عمل کیا گیا ہے اورکوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔مجموعی طور پر بجٹ خوش آئند ہے۔زیادہ تر ایٹمزپرکسٹم اور ریگولیٹر ڈیوٹیز ختم کی گی ہے۔222انڈسٹریل رامیٹریل  ایٹمز پر ریگولیٹر ختم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ٹرن اوور کی ویلیو طے کرنے کی تجویز پر بھی مان لی گئی ہے۔بجٹ کی تقریر کے مطابق 14سے 15ود ہولڈنگ ٹیکس کو کم کیا گیا ہے۔الٹرنیٹو ڈسپوٹ رزولیشن کمیٹی (اے ڈی آر سی) کا بہت مسئلہ تھا جس پر عمل کیا گیا ہے اوراے ڈی سی آر میں اب فیصلہ اب 60دن میں ہو گا۔ حکومت سے درخواست ہے کہ اے ڈی آر سی سے متعلق کئے گے اعلان کے مطابق فوری نوٹیفیکیشن جاری کرئے۔

انہوں  نے  کہا کہ ایس ایم ایزکو سپورٹ کرنا ہے تو ایس ایم ایز کی سیلنگ بتائی جائے۔انکم ٹیکس سے متعلق ایف بی آر کی طرف سے ہراساں کرنے کے اقدام کو ختم کرنا ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا۔ اب اس کا فیصلہ تھرڈ پارٹی کرئے گی جو اچھا فیصلہ ہے۔تھرڈ پارٹی چیک کرئے گی کہ کس نے کتنا انکم ٹیکس کم دیا ہے۔گزشتہ ماہ میں ایف بی آر کی طرف سے 50ہزار نوٹس جارے گئے ہیں۔ان اقدام سے کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا ہو گی اور کاروبار میں وسعت آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو Zero Ratedکیا ہے جو بہت ہی اچھا اقدام ہے،اس سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔اکنامک زون سے صنعتوں کو فروغ ملے گا۔بجلی کی قیمتوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گی ہے بجلی کی زائد قیمت پاکستان میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔کوئی بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔موجودہ انڈسٹری اور چیزوں پر ٹیکس کم کئے ہیں۔فارما سوٹیکل کے بہت سارے ایٹمز کے را میٹریل پر ڈیوٹیز کم کی گی ہے، زراعت کے شعبہ کو ریلیف دیا گیا ہے جو بہت ہی خوش آئند بات ہے۔