اسلام آباد۔28مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے، اتنے طاقتور کمیشن کا بننا ایک مشکل کام تھا، یہ کمیشن فلسطین میں نسل پرست اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرے گا اور انسانی حقوق کونسل جنیوا کے صدر کو رپورٹ کرے گا،  پاکستان کی تجویز پر قرارداد کا آنا اور اس پر کمیشن کی تشکیل وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔وہ جمعہ کو یہاں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری  کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کمیشن پر سن سیٹ کلاز شامل نہیں ہے یعنی  یہ کمیشن کسی محدود مدت کے لئے تشکیل نہیں دیا گیا اور یہ کمیشن وقتا فوقتا رپورٹ دیتا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ کمیشن دیکھے گا کہ نسل پرست اسرائیلی حکومت مقبوضہ فلسطین سمیت مشرقی یروشلم میں کیا کیا کر رہا ہے۔ یہ کمیشن اسرائیل کی جانب سے کی گئی عالمی انسانی قوانین اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرے گا۔ یہ کمیشن ہیومین رائٹس کونسل کے رکن ممالک کو سفارشات دے گا۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس کمیشن کو سہولیات مہیا کریں گے جبکہ یو این ہیومین رائٹس آفس ان کو لاجسٹک اور ٹیکنیکل سہولیات دیتے رہیں گے تاکہ کمیشن اپنا کام جاری رکھے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کر رہا ہے اور ان کو وہاں سے نکال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک نسل پرست حکومت ہے جو فلسطین پر قابض ہیں۔ جن ممالک پر قابض فوج ہوتی ہیں ان پر فورتھ جنیوا کنونشن لاگو ہوتا ہے جس کے تحت آپ لوگوں کو ان کے گھروں سے نہیں نکال سکتے ہیں، ان کے علاقے سے نہیں نکال سکتے اور نا ہی ان کو جیلوں میں بند کر سکتے ہیں یہ فورتھ جنیوا کنونشن میں واضح ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی کوئی فوج نہیں ہے وہ عام شہری ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی ملٹری کورٹس میں فلسطینی سویلین کے ٹرائل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نسل پرست اسرائیل جنگی جرائم کر رہا ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب اسرائیل نے اسلام کے عقائد پر بھی حملہ کیا ہے۔ رمضان میں مسجد اقصی پر اذان دینے سے روکنے کی کوشش کی گئی، مسجد کے صحن میں موجود روزہ داروں کو روزہ افطار کرنے سے روکا گیا۔ یہ صرف فلسطینیوں پر ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  موجودہ کمیشن بہت اہم ہے اور اس مضبوط کمیشن کی تشکیل سے ایک مثال قائم ہوگئی۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ کشمیر کے معاملے پر ایسے کمیشن کی تجویز دے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے او آئی سی سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آزادانہ کمیشن کی تشکیل میں مدد لینی چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اس کمیشن کی مخالفت  کیونکہ بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں وہی سلوک کر رہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ رواں رکھے ہوئے ہے۔