اسلام آباد،10جون  (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ مالی  سال   2020-21 میں  مہنگائی  کی شرح   عالمی  شرخ سےکم  رہی ، گھی  ، خوردنی  تیل ، چینی، خام تیل  میں  مہنگائی  کو قابو میں  رکھا ، کسان کو بازار میں   براہ راست  رسائی   دیں  گے ۔

جمعرات کویہاں قومی اقتصادی سروے 2020-21 کے اجرا کے موقع پر وفاقی وزیرمخدوم خسروبختیار،مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹرثانیہ نشتر، اورمعاون خصوصی ریونیو ڈاکٹروقار مسعودکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کہاکہ یہ ایک حقیقیت ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل، چینی، خوردنی تیل اوردیگراشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے، پاکستان اب خوراک کی زیادہ اشیا درآمد کررہاہے، ہماری کوشش ہے کہ خوراک کی اشیا کی  درآمدات میں کمی اوربرآمدات میں اضافہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ سے ہم نہیں بچ سکتے تاہم ہماری کوشش ہے کہ عام آدمی پراس کے اثرات کوکم سے کم کیاجائے، جاری مالی سال میں عالمی منڈی میں چینی کی قیمت میں 58 فیصداضافہ ہوا، حکومت نے صرف 19سے لیکر12 فیصدتک اضافہ کیا اور38 فیصد بوجھ خودبرداشت کیا، پام آئل کی بین الاقوامی قیمت میں 119 فیصداضافہ ہوا، پاکستان میں 22  فیصداضافہ صارفین کومنتقل ہواجبکہ باقی بوجھ حکومت نے برداشت کیا اسی طرح خام آئل اوردیگراشیا کی قیمتوں میں زیادہ تربوجھ حکومت نے خودبرداشت کیا اورصارفین کوقیمتوں میں اضافہ کے اثرات سے محفوظ رکھا گیا۔

 وزیرخزانہ نے کہاکہ مہنگائی پرقابوپانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کیلئے پیداوارمیں اضافہ کے ساتھ ساتھ انتظامی اقدامات پربھی توجہ دی جارہی ہے، ریٹیل اورہول سیل کے درمیان منافع کے مارجن کوکم کرنے کیلئے وئیرہاوسز اورکولڈسٹوریجز بنائے جارہے ہیں، پہلی مرتبہ گھی، دالوں، گندم، چینی اوردیگراشیا کے سٹریٹجک ذخائرقائم کئے جارہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی ناجائرمنافع خوری نہ ہو۔