فیصل آباد،28مئی  (اے پی پی):وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ عوام دوست وبزنس فرینڈلی ہوگا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا ئے گا اوربجٹ کے حوالے سے کسی کادباؤ قبول نہیں کیاجائے گا ، تمام فیصلے عوام کے مفاد میں کئے جائیں گے جبکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان لانے کیلئے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل میں اضافہ کرنا ہوگا ،نئے مالی سال کے بجٹ میں ہاؤسنگ،صحت انصاف کارڈ،کامیاب جوان پروگرام اور دیگر فلاحی منصوبوں کیلئے بھرپور فنڈز مختص کئے جائیں گے۔

جمعہ کی شام پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ہیڈکوارٹر کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا  کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے دور میں جمع کئے جانے والے ڈیم فنڈ کا پیسہ موجود ہے جسے ڈیموں کی تعمیر پر ہی خرچ اور اس کے ایک ایک پیسے کا آڈٹ ہوگااسی طرح زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایریاز زوننگ کی جارہی ہے جس کے تحت جہاں جس جنس کی ضرورت ہوگی اس کی پیداوار کو بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے طعنے دینے والی ن لیگ خزانے میں صر ف 9ارب ڈالر چھوڑ کر گئی جبکہ پہلے سال ہی ہمیں 10ارب ڈالر کے قرض کی قسط کی ادائیگی کرنا تھی ، ملک ڈیفالٹ کرسکتا تھا لیکن اب ہم بتدریج خود انحصاری کی طرف جارہے ہیں اور قرضوں کا بوجھ کم سے کم کیا جارہا ہے۔

وزیر  مملکت  نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ سے معاشی خوشحالی آئے گی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی مؤثر پالیسیوں کے باعث برآمدات کو فروغ مل رہا ہے اورٹیکسٹائل کے شعبہ میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گاکیونکہ موجودہ حکومت برآمدات بڑھانے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث ترسیلات زر اور پاکستان کی فی کس آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوانیز ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

وزیر  مملکت فرخ حبیب  نے کہا کہ ملک کی معاشی سرگرمیوں میں فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت کا اہم کردار ہے اور فیصل آباد کی پہچان بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حوالے سے ہے جسے ہم مزید بڑھائیں گے اورہماری کوشش ہے کہ شرح نمو 6فیصد تک لے جائیں تاکہ روزگار میں اضافہ ہوجبکہ بہترین معاشی پالیسیوں سے ملک کی اقتصادی صورتحال بہت بہتر ہوئی اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید بہتری بھی آئے گی۔فرخ حبیب نے کہا کہ زرعی اجناس کے مناسب نرخ مقرر ہونے سے کاشتکار طبقہ خوشحال ہوااور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گندم کی قیمت 1800 روپے فی من ہونے سے کاشتکاروں کو 500 ارب روپے کی اضافی آمدنی اور دیگر تمام فصلات میں 1100 ارب کی اضافی رقم حاصل ہوئی جن سے ٹریکٹروں، کاروں، موٹر سائیکلوں اور زرعی مشینری کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوا اور کاشتکار اب ضروریات زندگی کی خریداری کیلئے مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں اس طرح اب یہ پیسہ شہری مارکیٹوں میں آئے گا جس سے کاروباروں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔وزیر مملکت نے کہا کہ بہترین معاشی پالیسیوں سے ملک کی اقتصادی صورتحال بہت بہتر ہوئی جبکہ ہماری کوشش ہے کہ شرح نمو 6فیصد تک لے جائیں تاکہ روزگار میں اضافہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ گندم،کماد،چاول،مکئی سمیت دیگر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ اب ہماری توجہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہورہا ہے تاہم اس میں اور زیادہ تیزی لانے کیلئے صنعتکاروں کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاہم ہمیں زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان لانے کیلئے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل میں اضافہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایریاز زوننگ کی جارہی ہے جس کے تحت جہاں جس جنس کی ضرورت ہوگی اس کی پیداوار کو بڑھایا جائے گا۔

وزیر  مملکت  اطلاعا ت ونشریات نے کہا کہ جب حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ٹیکسٹائل انڈسٹری بدحالی کا شکار تھی،سپننگ ملز بند،پاورلومز کباڑ میں فروخت،ریفنڈز پھنسے ہوئے اور کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں عدم مساوات موجود تھی جس کی وجہ سے ہمارے صنعتکار یہاں سے صنعتیں بند کرکے بنگلہ دیش منتقل ہورہے تھے لیکن حکومت نے سب سے پہلے اپنے انتخابات سے قبل فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ملرز اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر جو پالیسی تشکیل دی گئی اس کنٹری بیوشن کے تحت ٹیکسٹائل سیکٹر کی بہتری کیلئے اقدامات کاآغاز کیا اور پونے 3سال قبل جو پالیسیز بنائی گئی تھیں ان پر نیک نیتی سے عملدرآمد کے باعث اب ان کے شاندار نتائج حاصل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ 10ماہ میں برآمدات میں شاندار اضافہ ہوا اور یہ برآمدات 13فیصد بڑھ کر 24ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو مالی سال کے اختتام 30جون تک 26بلین ڈالرتک پہنچ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں ہم بنگلہ دیش اور ہمسایہ ممالک کی برآمدات سے بھی آگے نکل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایگروبیسڈ گروتھ پر زور دیا ہے جس سے نہ صرف ٹیکسٹائل کے شعبہ میں ترقی ہوئی بلکہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں بھی9فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے تحت ان کی معاشی ٹیم کی بہترین پالیسیوں سے جہاں ایک طرف دنیا بھر میں لاک ڈاؤن تھا وہاں پاکستان میں صنعتوں کا پہیہ چلتارہا اور ایک بھی مزدور کو فارغ نہیں کیاگیا جس کے برعکس سٹیٹ بنک نے انہیں پے رول پیکیج دیئے اور پرنسپل اماؤنٹ سمیت مارک اپ کو ڈیفر کیا اور پرنسپل اماؤنٹس کی ری سٹرکچرنگ کی گئی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اسی طرح 432ارب کے لونز فراہم کئے گئے جن میں سٹیٹ بنک کا ایک فیصد اور دیگر تمام مارک اپ ملا کر 4فیصد انٹرسٹ ریٹ بنا جس پر 10سال کیلئے لون ملے یہی وجہ ہے کہ آج جدید مشینری امپورٹ کی جارہی ہے اور ڈیجیٹل مشینری وایکوسسٹم جنریٹ ہونے سے جہاں جدت آرہی ہے وہی ٹیکنکل سٹاف کو جاب ملنے سے ویلتھ کری ایشن ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ ٹرف سکیم کے تحت فیصل آباد سیکٹر میں منصوبے لگ رہے ہیں جس سے صنعت تیزی سے آگے جارہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی ذمہ داریاں بھی پوری کی جارہی ہیں۔

 فرخ حبیب نے کہاکہ اب صنعتی شعبہ کو کم ریٹ پر بجلی وگیس فراہم کی جارہی ہے اور زیادہ یونٹ استعمال کرنے پر انہیں سپیشل پیکیج کے تحت رعایات دی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث روشن ڈیجٹیل اکاؤنٹس ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور ترسیلات زر بھی 24ارب ڈالر ہوگئی ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں 55ارب ڈالر کے انفلوکے امکانات ہیں جو ایک ریکارڈ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور گروتھ میں تیزی کیلئے پالیسیاں لارہی ہے جس کے جلد بہترین نتائج حاصل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سیمنٹ اور آئی ٹی سمیت دیگر سیکٹرز میں شاندار ترقی ہورہی ہے وہیں عالمی سطح سے بھی اچھی خبریں آرہی ہیں جن میں ریکوڈک کیس کا پاکستان کے حق میں فیصلہ بھی شامل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف بجلی کی نہیں بلکہ سستی بجلی کی ضرورت ہے لہٰذا حکومت زیادہ سے زیادہ ڈیمز کی جانب توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور مہمند ڈیم،دیامر بھاشاودیگر ڈیم اس کی روشن مثال ہیں جن سے اگلے 10سالوں میں جہاں 10ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہوگی وہیں 13ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور ہوگا اور ایک کروڑ 30لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرنے میں مدد ملےگی نیز سستی بجلی سے صنعتی وکاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا بھی ایک بہترین ادارہ بن چکا ہے جس نے یورپ میں 500ملین ڈالر کے گرین بانڈپیش کئے جس کے برعکس اسے 3بلین ڈالر کی پیشکشیں ملیں۔