اسلام آباد۔28مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان میں مقبول ترین رہنما ہیں، پاکستان کے عوام نے انہیں ووٹ دیئے اور ان کے پرستار ہیں، آئندہ عام انتخابات میں بھی وزیراعظم عمران خان کامیابی حاصل کریں گے، منتخب حکومت کو کمزور نہ سمجھا جائے، کووڈ 19 بحران کے باوجود ملک کی شرح نمو 3.94 فیصد ہے، تقریباً 1100 ارب روپے اربن اکانومی سے رورل اکانومی میں منتقل ہوئے، اس سال چار بمپر فصلیں ہوئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی بی سی کے پروگرام ”ہارڈ ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ منتخب حکومت کو کمزور نہ سمجھا جائے، عمران خان نے گزشتہ عام انتخابات میں لاکھوں ووٹ حاصل کئے، وہ ایک ایٹمی ملک کے وزیراعظم ہیں، وزیراعظم اور ان کی کابینہ اجتماعی فیصلے کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے حوالے سے پاکستان کا ردعمل پوری دنیا میں سب سے بہتر رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے ریمارکس کا حوالہ دیا کہ ”وبا سے متعلق پاکستان نے دنیا کے لئے مثال قائم کی، پاکستان نے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں کام کیا۔“ انہوں نے کہا کہ یہ الفاظ کووڈ 19 کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہماری کامیاب حکمت عملی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں 5.5 ملین افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ عوام کو ویکسین لگوانے کے حوالے سے پاکستان دنیا کے صف اول کے 34 ممالک میں شامل ہے، جس انداز سے ہم چل رہے ہیں، ہم ویکسینیشن کے اہداف کو جلد حاصل کرلیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ 19 کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی کامیابی جزوی لاک ڈاؤن کی حکمت عملی ہے جس نے بہتر طریقے سے کام کیا۔ پاکستان میں خطے کے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں صورتحال کافی بہتر ہے۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو بے پناہ آزادی حاصل ہے، آزادی اظہار رائے ایک بنیادی اور جمہوری حق ہے جس کی آئین پاکستان میں ضمانت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، پاکستان میں انہیں آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بی بی سی سمیت تقریباً 43 بین الاقوامی چینلز، 112 مقامی پرائیویٹ چینلز، 258 ایف ایم چینلز اور 1569 پرنٹ پبلی کیشنز موجود ہیں لہذا اتنے بڑے پیمانے پر میڈیا کی موجودگی میں کیسے میڈیا کو دبایا جا سکتا ہے؟ ایک مقامی چینل ”آج ٹی وی“ پر بی بی سی کے پروگرام روکنے کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بی بی سی پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا بین الاقوامی چینل ہے اور حکومت نے کبھی بھی اس کی ٹرانسمیشن میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی اردو کو مقامی قوانین پر پیروی کے ساتھ اپنے پروگرام نشر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اسد طور پر حملے کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر معاملہ کا نوٹس لیا۔ سینئر پولیس آفیسر اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں واقعہ کے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی ادارے پر (حملوں کا) الزام عائد کرنا بلا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی واقعات دنیا میں ہر جگہ پیش آتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت سے لڑ رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے شہریوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ دہشت گردی صرف صحافیوں تک محدود نہیں رہی، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کے حملے میں جاں بحق ہوئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تقریباً 70 ہزار شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد صحافیوں پر حملوں کے واقعات کم ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کی آزادی روکنے کے لئے قوانین منظور کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر عالمگیر سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہیں جن پر قابو پایا جانا چاہئے، تمام ریاستیں اور تنظیمیں اس بات کی پابند ہیں کہ نفرت انگیز تقاریر کی اجازت نہ دی جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ گوگل، فیس بک اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قدر کرتے ہیں، میری خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے دفاتر کھولیں، ہم ان کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتے ہیں، ہم دنیا کے لئے ان کے تعاون کو تسلیم کرتے ہیں۔