اسلام آباد،11جون  (اے پی پی):آئندہ مالی سال 2021-22ءکا 8487 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے ۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-22ءکا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے  مختلف علاقوں کے درمیان ترقی کے فرق کو دور کرنے کے لئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت سے پسماندہ علاقوں کی ترقی یقینی بنانے کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کئے ہیں ان میں اس مقصد کے لئے 100 ارب روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔ جنوبی بلوچستان کے لئے ترقیاتی منصوبے کے تحت 601 ارب روپے کی لاگت سے 199 منصوبوں کی فنڈنگ پر مشتمل پیکج کے تحت اس بجٹ میں 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا کل حجم 739 ارب روپے ہے جس کے لئے 98 ارب روپے وفاقی حکومت دے گی جبکہ سرکاری و نجی شعبہ کے اشتراک سے 509 ارب روپے اور سپریم کورٹ فنڈ سے 125 ارب روپے دیئے جائیں گے۔ اس پلان کے تحت نالوں، دریاﺅں، سڑکوں کی تعمیر ، ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس اور واٹر سپلائی کی سہولت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گلگت بلتستان سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبے کے تحت 162 ارب روپے کی لاگت کے 29 پراجیکٹ شامل ہیں جبکہ اس بجٹ میں اس کے لئے 40 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔ سندھ کے 14 سے زائد اضلاع کے لئے ترقیاتی منصوبہ کے تحت 444 ارب روپے کی لاگت کے 107 منصوبوں کی تکمیل کی جائے گی۔ اس سال بجٹ میں اس مقصد کے لئے ساڑھے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ان میں سے 30 ارب روپے دس سالہ ترقیاتی منصوبے کے لئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے پاس 2000 ارب روپے لاگت کے پچاس منصوبے موجود ہیں ان میں سیالکوٹ تا کھاریاں اور سکھر تا حیدرآباد موٹروے پر کام 233 ارب روپے کی لاگت سے شروع کردیا گیا ہے۔ 710 ارب روپے کے مزید منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں کام شروع ہوگا۔