زیارت، یکم جون ( اے پی پی): ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لئے چھ سو ارب روپے پیکج دیا ہے جبکہ این ایچ اے کا مجموعی بجٹ کا اسی فیصد بلوچستان کے لیے مختص کیا گیا ہے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بلوچستان سمیت ملک بھر کے پسماندہ علاقوں کی جانب خصوصی توجہ دی ہوئی ہے، گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران  وزیر اعظم نے بلوچستان کے جس قدر دورے کئے ہیں اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی۔

منگل  کو  یہاں    قومی  خبر  رساں   ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیر اعظم کا آج کا دورہ، زیارت کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں دس سالوں کے دوران گیارہ سو کلو میٹر شاہرواں کی تعمیر کی جبکہ ہماری حکومت نے ڈھائی سالوں کے دوران تینتیس سو کلو میٹر شاہرواں کی تعمیر کے منصوبوں پر کام شروع کردیا ہے جس سے صوبے میں ترقی کا پائیدار عمل شروع ہو جائے گا، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں بلوچستان ترقی کی منازل تیزی سے طے کرے گا اور بلوچستان سے  پسماندگی کا خاتمہ ہوگا۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی  نے کہا کہ زیارت پاکستان کا وہ مقام ہے جہاں بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے آخری ایام گزارے، قائد ریزیڈنسی قومی اتحاد و اتفاق و یکجہتی کی علامت ہے۔انہوں   نے  کہا کہ   اس سے قبل زلزلے کی آفت میں عمران خان زیارت آئے تھے تاہم قائد ریزیڈنسی نہیں جاسکے تھے، وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ دورہ بلوچستان صوبے میں سیاحت کے فروغ اور مجموعی ترقی کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوگا۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری  نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی وزیر اعظم عمران خان کی اولین  ترجیحات میں شامل ہے،  زیارت کو ترقی دیکر اسے ملک کا خوبصورت سیاحتی مقام بنائیں گے جس سے نہ صرف پورا علاقہ ترقی کرے گا بلکہ سیاحت کے فروغ سے صوبے کی معاشی و اقتصادی سرگرمیوں میں  اضافہ ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے وسیع موقع  میسر آئیں گے۔ انہوں  نے  کہا کہ زیارت میں جونیپر کے درختوں پر مشتمل دنیا کا  دوسر بڑا فارسٹ موجود ہے اور زیارت کا شمار پاکستان کے چند ایک خوبصورت اور پرامن سیاحتی اضلاع میں ہوتا ہے جہاں جونیپر کے ہزاروں سال پرانے درخت ہیں۔