اسلام آباد،10جون  (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ حکومت  غریب اورتنخواہ دارطبقہ پربوجھ نہیں  بڑھائےگی، برآمدات اورپیداوارمیں اضافہ کیلئے جامع منصوبہ بندی سے آگے بڑھیں گے،  حکومت نے کوویڈ19کے حوالہ سے دانش مندانہ پالیسیاں اپنائیں اورکورونا وائرس کے اثرات کوکم یا زائل کیا،   کورونا وبا کے  باوجود   پاکستانی معیشت استحکام کی  جانب   گامزن ہے ۔

جمعرات کویہاں قومی اقتصادی سروے 2020-21 کے اجرا کے موقع پر وفاقی وزیرمخدوم خسروبختیار،مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹرثانیہ نشتر، اورمعاون خصوصی ریونیو ڈاکٹروقار مسعودکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کہاکہ موجودہ مالی سال کاجب آغازہواتوکوویڈ19 کی وبا کی لہرپھیلی ہوئی تھی، حکومت نے کوویڈ19کے حوالہ سے دانش مندانہ پالیسیاں اپنائی اورکورونا وائرس کے اثرات کوکم یا زائل کیاگیا، سمارٹ لاک ڈاون کے حوالہ سے فیصلہ دانش مندانہ ثابت ہوا، حکومت نے مالیاتی اورزری بنیادوں پربھی فیصلے کئے۔انہوں نے  کہا کہ وزیراعظم نے اپنی کوششوں سے ہاوسنگ اورتعمیرات کے شعبہ کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج دیا اوراس ضمن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے خصوصی مراعات حاصل کی گئیں، شہریوں کو ویکسین کی فراہمی کاعمل شروع کیاگیا، این سی اوسی کاقیام ایک بڑااقدام تھا جس کی موثرنگرانی میں کوویڈ کی لہروں پرقابوپانے میں مددملی ہے۔

 وزیرخزانہ نے کہاکہ کوویڈ کی پہلی لہراورلاک ڈاون سے کام کرنے والے 5کروڑ60 لاکھ افراد کی تعداد گھٹ کر3 کروڑ50  لاکھ کی سطح پرآگئی، یعنی دوکروڑ افراد جن میں سے بیشتردیہاڑی دار اور ذاتی روزگاروالی آبادی شامل تھی،بے روزگارہوئی اورانہیں کوئی کام نہیں مل رہاتھا، وزیراعظم عمران خان نے اس ضمن میں دانش مندانہ پالیسیاں اپنائیں، ان پالیسیوں کے نتیجہ میں گزشتہ سال اکتوبرمیں کام کرنے والے افراد کی تعداد دوبارہ بڑھ کر5 کروڑ30لاکھ ہوگئی ہے، معیشت بحال اوربڑھوتری کی جانب گامزن ہے، وزیرخزانہ نے کہاکہ سال کے آغازمیں بڑھوتری کااندازہ 2.8فیصد لگایا گیاتھا، آئی ایم ایف اورعالمی بینک اس سے کم بڑھوتری کے اندازے لگارہے تھے تاہم حکومت نے انسانی زندگیوں کے تحفظ اورکاروبارکے حوالہ سے جو فیصلے کئے اس سے بہت بہترنتائج سامنے آئے، حکومت نے میگااقتصادی پیکج کے تحت مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، تعمیرات اورزراعت کیلئے خصوصی مراعات کااعلان کیا، ان اقدامات سے بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں 9 فیصد اورزراعت میں 2.77فیصدکی بڑھوتری ہوئی، کاٹن کی فصل خراب ہونے سے ہمیں زرعی پیداوارمیں کمی کاخدشہ تھا تاہم گندم، چاول، مکئی اورکماد کی بمپرپیداوارحاصل ہوئی ہے، ترسیلات زرکے شعبہ میں نمایاں بہتری آئی ہے، مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زرکی مدمیں 26 ارب ڈالرحاصل ہوئے ہیں اورسال کے اختتام پریہ 29 ارب ڈالرہوجائیں گے، ترسیلات زرمیں یہ اضافہ وزیراعظم عمران خان پربیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کامظہرہے۔