اسلام آباد،07 جون (اے پی پی ): وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ہم  اپوزیشن  اور  باقی  اسٹیک  ہولڈرز کے  ساتھ  مل کر  الیکشن  ترامیم  پر آگے بڑھنا چاہتے    ہیں   تاکہ  آئندہ  الیکشن  ٹیکنالوجی  کے   بنیاد پر  کروایا جائے ۔

وہ پیر کو الیکشن کمیشن کے باہر وفاقی وزیراطلاعات ونشریات  چوہدری  فواد حسین، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز

، وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر  رہے   تھے ۔وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ کے بارے میں کہا تھا  تاہم الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے ملک میں قانون موجود نہیں تھا اس لئے اس حوالے آرڈیننس جاری کیا۔ یہ آرڈیننس  قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دینے پر بھی الیکشن کمیشن سے بات ہوئی ہے، بیرون ملک پاکستانی ملک کے محسن ہیں، ان کو شراکت اقتدار میں شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ 2023 کے انتکابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کےذریعے ہوں، اپوزیشن اور الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاور ت کر رہے ہیں، سب شفافیت کے حامی ہیں۔

 ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا  کہ پہلے حلقوں میں پری پول دھاندلی آر اوز کے ذریعے اورانتخابات میں دھاندلی  ضلعی افسران کے ذریعے  کی جاتی تھی۔ ہم ماضی کے اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے کل بدھ کو ملاقات ہو گی۔ انہو ں نے کہا کہ انتخابات کے نتیجہ کے بعد دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے، مختلف فارم نہ ملنے کی شکایات ہوتی ہیں، ہم اصلاحات کےذریعے قانون کے مطابق شفافیت یقینی بنانے کے لئے ٹیکنالوجی پر مبنی انتخابات چاہتے ہیں۔

 مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی کے لئے اکثریت حاصل ہے لیکن تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت چاہتے ہیں کیونکہ یہ 22 کروڑ عوام کے ووٹوں کا معاملہ ہے۔ ہم ووٹوں کی چوری اور ڈکیتی کاراستہ روکناچاہتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تجاویز کاخیرمقدم کریں گے، اس آرڈیننس میں الیکشن کمیشن کو مالی طورپر خود مختار بنانے کی شق بھی شامل ہے۔