اسلام آباد ،5 جون (اے پی پی ):وزیراعظم نے کہاکہ اب ہم نے ملک بھر میں 10ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے جس میں ایک ارب درخت لگائے جاچکے ہیں، اس  منصوبے کی کامیابی میں جب تک ساری قوم حصہ  نہیں لے گی اور اس کااحساس نہیں کرے گی کہ یہ منصوبہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ہے اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اہم ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے طالبعلوں کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ درخت لگانے کی کیا اہمیت ہے اور یہ مستقبل کے لئے کیوں ضروری ہیں ، اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے ، اس کے ماحولیات ، پانی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی ، موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہوں گی ، آکسجن کی سپلائی بہتر ہوگی ، آلودگی میں کمی ہوگی ، برڈ اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا اس کے لئے سارے ملک کو اس منصوبے میں شامل ہونا پڑے گا ، حکومت اکیلی یہ جنگ نہیں جیت سکتی بلکہ اس کے لئے پوری قوم کو ساتھ دینا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ اس  میں پوری قوم بالخصوص نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ، چین میں نوجوان آبادی کم ہونے کی وجہ سے اب بچے پیدا کرنے کی اجازت دی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یورپ میں آگاہی کی وجہ سے بچے اپنے بڑوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریچارج پاکستان ایک اہم قدم ہے اس سے سیلابی پانی کو وٹ لینڈ کی طرف موڑ کر اس سے جھیلیں بنا کر بنجر زمینوں کو ریچارج کر سکتے ہیں ،پاکستان میں بہت بڑی ساحلی پٹی ہے جہاں مینگروز لگائے جارہے ہیں ، ان درختوں میں یہ خاصیت ہے کہ کاربن جذب کرتے ہیں ، دنیا میں یہ درخت کم جبکہ پاکستان میں زیادہ ہو رہے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے درخت لگانے کے منصوبے میں عوام کو بطور فریق شامل کر نا ہے تب ہی لوگ اس کی پروا کریں گے ،مقامی لوگوں کو اس سلسلے میں روز گار دیکر بھی اس میں شامل کریں گے، پاکستان نے کورونا  وبا کے لئے خواتین اور نوجوانوں سمیت 80ہزار افراد کو گرین جاب دیں ، زیارت میں اکیڈیمی قائم کی جارہی ہے جہاں فارسٹ گارڈز کو بھی تربیت دی جائے گی ، ان کی تعداد بھی بڑھائیں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومی پارکس بڑھانے سے سیاحت کو فروغ ملے گا ، جنگلات کو تحفظ  حاصل ہو گا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ناردرن ایریاز میں مارخور کی نسل ختم ہو رہی تھی یہاں پر ٹرافی ہنٹنگ متعارف کرائی گئی جس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہاں پر ایک لاکھ ڈالر دے کرغیر ملکی  شہری مارخور کا شکار کرسکتے ہیں اور یہ رقم وہاں مقامی لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔