اسلام آباد، 24 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین  نے سندھی صحافیوں سے کفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان میں   یہ جو ریجنل میڈیا کا معاملہ ہے  اس میں اٹھارویں ترمیم کے بعد  بنیادی طور  پر ریجنل میڈیا کو  صوبوں نے کیٹر کرنا ہے، پچھلے 2 سالوں میں  1600 ارب روپیہ سندھ  گورنمنٹ کو منتقل ہوا فیڈرل گورنمنٹ کی طرف سے، اب یہ  اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہے  کہ وہ یہ پیسہ کیسے خرچ کر رہے ہیں۔

انہوں  نے کہا کہ  اس وقت کراچی کے جو ہسپتال وفاق سے صوبے کے حوالے کئے گئے، وہ سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ خدا کے لئے  وہ ہسپتال واپس وفاق کو دئیے جائیں کیونکہ سندھ حکومت نے وہا ں پر بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ اب اگر کراچی کہتا ہے کہ ہمارے اوپر   ڈیویلپمنٹ کا پیسہ خرچ نہیں ہو رہا  اور وفاقی حکومت کو ایڈیشنل پیسے سندھ کے لئے دینے پڑتے ہیں  تو یہ وفاق کے بجٹ سے جاتے ہیں  اور یہ پیسہ 700 ارب روپیہ  سندھ کو دیا گیا،  وفاق کی طرف سے،  یہ ایڈیشن میں ہے ان پیسوں کے جو ہم سندھ گورنمنٹ کو پہلے دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا  کہ سندھ بہت بڑی رائلٹی لے رہا ہے گھوٹکی  ڈسٹرکٹ کی مد میں  جہاں پر گیس اور تیل ہے ،  وہ یہ رائلٹی ان ڈسٹرکٹس کے نام کے اوپر لیتا ہے، سوال یہ ہے کہ ان ڈسٹرکٹس کی حالت کیا ہے ، وہاں پر وہ پیسہ خرچ کیوں نہیں ہو رہا ،  وہ پیسہ نظر کیوں نہیں آرہا ، آپ کے پاس اگر ہسپتال اچھا نہیں ہے ، اسکول اچھا نہیں ہے۔  کراچی میں  1990 کے بعد سے ، اس سال تقریباً تین ارب روپیہ  رینجرز کو سندھ پولیس ادا کر رہی ہے  کہ تاکہ  رینجرز کراچی میں رہیں ۔  کیا 30 سالوں میں یہ حق نہیں بنتا تھا کہ  گورنمنٹ کا کہ اپنی پولیس ہی ڈیویلپ کر لیں  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سندھ کے اندر  ایک بھرتی  بھی میرٹ کے اوپر نہیں ہوتی، پی آئی اے کا حال ، پاکستان اسٹیل مل کا حال آپ کے سامنے ہے۔ جب آپ اداروں کے اندر  اس طرح سے بھرتیاں کریں کہ آپ میرٹ کا قتل عام ہی کر دیں  تو پھر وہ ادارے بیٹھ جائیں گے ، ہم نے دیکھا ہے کہ یہ ہی کچھ زرداری صاحب کی حکومت نے سندھ کے ساتھ کیا ہے۔